aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bhulaane"
بلند اقبال
مصنف
سرشار بلند شہری
born.1928
شاعر
محمد فرحت اللہ بلند شہری
مدیر
عبدالصمد بزمی بلند شہری
گوردیال سنگھ بھولا
بیگم نواب سربلند جنگ بہادر
سریندر بھوٹانی
منشی بلند خان
در سکسینہ میڈیکل پریس، بلند شہر
ناشر
سر بلند خان اکمل
نیلکو پرنٹرز بلند باغ، لکھنؤ
ساہتیہ بھوپن، بنارس
برج بھوشن
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیںاک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوستوہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھےتمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے
भुलाना بُھلانا
بھولنا کا تعدیہ
ہندی
भुलावे بُھلاوے
بُھلاوا کی جمع یا محرفہ کی شکل، تراکیب میں مستعمل
ख़ुलासे خُلاصے
Synopsis, summary
عربی
फुटाने پُھٹانے
sugar-coated peas
کلام بلھے شاہ
سید نذیر احمد
انتخاب
نظیر کا آوازہ بلند
محمد ذاکر دہلوی
شاعری تنقید
صادقین جی سے بھلایا نہ جائے گا
عنبرین عباس
خواتین کی تحریریں
آدمی جس نے اپنے آپ کو بھلا دیا
منیرالدین احمد
بھلائے نہ بنے
محمد شکیل اختر
فرشتے کے آنسو
رات کا بھولا اور دیگر افسانے
عبدالقادر سروری
افسانہ
اصول بطلان مذہب عیسائی
مولوی محمد کریم بخش
عیسائیت
روپ کامنی
مولانا ترکی
مثنوی
بھلانئے نہ بنے
فرزانہ اعجاز
اقبال ستارہ بلند شرق
محمد اکرم
سوانح حیات
بتان حرم
محمد الدین فوقؔ
کاخ بلند
حکیم عبد الکریم
نظم
بھولنے والے
زلیخا حسین
بلند پروازی رضی
سید رضی علی کاکوری
اسلامیات
تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھاتم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے
سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیںتو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں
ہے عجب حال یہ زمانے کایاد بھی طور ہے بھلانے کا
کبھی ہم کو یقیں تھا زعم تھا دنیا ہماری جو مخالف ہے تو ہو جائے مگر تم مہرباں ہوہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسےوہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
انہیں بھولنا یا انہیں یاد کرناوہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے
شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہماس کے وعدوں کو بھلانے کے لئے نکلے ہیں
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیںشاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں
بھلا دیا تو بھلانے کی انتہا کر دیوہ شخص اب مرے وہم و گمان سے بھی گیا
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والیاپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی
یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیںتجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت
وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعدزندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد
وہ بظاہر تو ملا تھا ایک لمحے کو عدیمؔعمر ساری چاہئے اس کو بھلانے کے لیے
گزرتے پتوں کی چاپ ہوگی تمہارے صحن انا کے اندرفسردہ یادوں کی بارشیں بھی مجھے بھلانے کے بعد ہوں گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books