aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bindas"
مرتضیٰ برلاس
born.1934
شاعر
بینا گوئندی
born.1967
نواب امراوبہادر دلیر
1873 - 1926
مصنف
جاوید لکھنوی
1862 - 1922
عاقب جاوید
born.1993
نواب سیف علی سیاف
1895 - 1974
بندر ابن راقم
شمونا رائے بسواس
فن کار
کملیش بسواس
born.1994
خلیل الرحمن بینا بجنوری
حضرت خواجہ بندہ نواز محمد حسینی گیسودراز
رادھا سوامی ست سنگ بیاس
ناشر
مرزا علی اظہر برلاس
1900 - 1989
بندہ سید امیر علی
پنڈت بندرا بن برق
بیٹیاں بنداس ہوتی جا رہیں توہاتھ سے بیٹا نکلتا جا رہا ہے
چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہےخود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملیمرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیںکہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
شاعری لفظ کو چھوڑکراس کے ارد گرد پھیلے ہوئے امکانات کواستعمال میں لاتی ہے۔ پرندہ اوراس طرح کے دوسرے لفظوں کے حوالے سے کی گئی شاعری کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پرندہ شاعری میں صرف پرندہ ہی نہیں رہتا بلکہ آزادی، بلندی اورپروازکی ایک علامت بن جاتا ہے ۔ پرندےاور کئی سطحوں پرزندگی میں حوصلے کی علامت بن کرسامنےآئے ہیں ۔ پرندوں کا رخصت ہوجانا زندگی کی معصومیت کے خاتمے اور شہری زندگی کے عذاب کا اشارہ بھی ہے ۔ نئی غزل میں یہ موضوع کثرت سے برتا گیا ہے ۔
बिंडाبِنْڈا
لکڑیوں یا گھاس وغیرہ کا گٹھا ، لکڑیوں کا بوجھ.
बिन्ड़ाبِنْڑا
وہ بیل جس کی دم کے سرے پر بالوں کا گچھا نہ ہو یا بال معمول سے کم ہوں۔
बींडाبِینڈا
سنسکرت
بِینڈ
बिंदासبِنْدَاس
پس و پیش یا تذبذب کا شکارنہ ہونے والا، جو معاشرے کے پرانے رسم و رواج اور اصولوں کی پیروی نہیں کرتا ہو
حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز
شبیر حسن چشتی نظامی
سوانح حیات
خواجہ بندہ نواز کا تصوف اور سلوک
میر ولی الدین
چشتیہ
جوئندہ یا بندہ
رالف رسل
خودنوشت
بندر اور نائی
عبدالواحد سندھی
افسانہ
محمد اسد بندۂ صحرائی
محمد اسد
خود نوشت
سوانح مبارک امام اولیائے دکن حضرت خواجہ بندہ نواز
محمد علی خاں
فوائد حضرت بندہ نواز
خواجہ بندہ نواز گیسو دراز
خطوط
بن باس
ناصر شہزاد
بیدر: آج تک
عبدالصمد بھارتی
ہندوستانی تاریخ
اللہ دے بندہ لے
رضیہ سجاد ظہیر
خواتین کی تحریریں
ابن عربی
اینجلا جافرے
سیرت بندہ نواز وسیلہ کائنات
سید غلام مصطفیٰ قادری
ٹوپی بیچنے والا اور بندر
تو بندہ کون ہے آخر؟
رضی احمد چشتی
تحقیق و تنقید
اودھ پر انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتیدل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو
بدہ یارا ازاں بادہ کہ دہقاں پرورد آں رابہ سوزد ہر متاع انتماے دودماناں را
بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہےہم بتائیں تو کیا تماشا ہو
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
جیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیںخبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیںبنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
کہہ رہی ہے ہر نظر بندہ پرور شکریاہنس کے اپنی زندگی میں کر لیا شامل مجھے
کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتابوندا باندی بھی دھوپ بھی ہے ابھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books