ADVERTISEMENT

پرندہ پر شعر

شاعری لفظ کو چھوڑکراس

کے ارد گرد پھیلے ہوئے امکانات کواستعمال میں لاتی ہے۔ پرندہ اوراس طرح کے دوسرے لفظوں کے حوالے سے کی گئی شاعری کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پرندہ شاعری میں صرف پرندہ ہی نہیں رہتا بلکہ آزادی، بلندی اورپروازکی ایک علامت بن جاتا ہے ۔ پرندےاور کئی سطحوں پرزندگی میں حوصلے کی علامت بن کرسامنےآئے ہیں ۔ پرندوں کا رخصت ہوجانا زندگی کی معصومیت کے خاتمے اور شہری زندگی کے عذاب کا اشارہ بھی ہے ۔ نئی غزل میں یہ موضوع کثرت سے برتا گیا ہے ۔

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد

شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

عرفان صدیقی

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

تیر ہر شخص کی کمان میں ہے

امیر قزلباش

اب تو چپ چاپ شام آتی ہے

پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے

محمد علوی

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

عمیر نجمی
ADVERTISEMENT

مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا

پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے

بشیر بدر

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ

اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

عدیم ہاشمی

یہ پرندے بھی کھیتوں کے مزدور ہیں

لوٹ کے اپنے گھر شام تک جائیں گے

بشیر بدر

پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے

اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

خلیل تنویر
ADVERTISEMENT

پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علویؔ

اجاڑ اجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

محمد علوی

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

طارق نعیم

پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے

مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے

خلیل تنویر

جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں

شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

افضل خان
ADVERTISEMENT

کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئے

کچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے

نصرت گوالیاری

یہ رنگ رنگ پرندے ہی ہم سے اچھے ہیں

جو اک درخت پہ رہتے ہیں بیلیوں کی طرح

خاقان خاور

پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیں

کہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

اسعد بدایونی

پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں

کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں

اسعد بدایونی
ADVERTISEMENT

یہ طائروں کی قطاریں کدھر کو جاتی ہیں

نہ کوئی دام بچھا ہے کہیں نہ دانہ ہے

اسعد بدایونی

جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی

ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا

عنبر بہرائچی