عمیر نجمی

غزل 14

اشعار 4

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے

پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

  • شیئر کیجیے

اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میں

جس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 2

 

ویڈیو 5

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

عمیر نجمی

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے_گا

عمیر نجمی

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

عمیر نجمی

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیا

عمیر نجمی

متعلقہ شعرا

"رحیم یار خان" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI