aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dayaar"
میراجی
1912 - 1949
شاعر
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
1811 - 1845
عاشق اکبرآبادی
1848 - 1918
زاہد ڈار
1936 - 2021
درشن دیال پرواز
born.1935
مصنف
سرویشور دیال سکسینہ
رنگیشور دیال سکسینہ صوفی
born.1902
بشن دیال شاد دہلوی
1889 - 1964
شیو دیال سحاب
دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ، پٹنہ
ناشر
گور بچن سنگھ دیال مغموم
born.1934
آصف ڈار
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
جاگیشور دیال نشتر کانپوری
شبیر احمد ڈار
نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوںجو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںکس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئیتو فیضؔ ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
شام تیرے دیار میں آخرکوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا
دیار شاعری
दया دَیا
رحم، کرم، ترس، مہربانی، عنایت
سنسکرت
दाया دایا
دائی کی تذکیر، دائی کا خاوند
پراکرت, فارسی
दयार دَیار
بسنے والا، مکین، رہنے والا
عربی
दाया دایَہ
دائی کا کام کرنے والی، بچے کو پرورش کرنے والی عورت، بچّے کو دودھ پلانے والی عورت جو بچّے کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے، آیا، دائی، قابِلہ، رضاعی ماں
فارسی
باد نو بہار
ظہور صدیقی
مقالات/مضامین
عرب و دیار ہند
مولانا بہاء الدین
تاریخ اسلام
فراق: دیار شب کا مسافر
سہیل احمد فاروقی
تنقید
جذب القلوب الی دیار المحبوب
عبد الحق محدث دہلوی
تاریخ
دیار مغرب میں مہجری اردو ادب
ڈاکٹر اشتیاق عالم اعظمی
تحقیق و تنقید
دیار ٹیپو کی سیر
عمر حیات خاں غوری
سفر نامہ
دیارعرب میں
مسعود عالم ندوی
اجڑے دیار میں
بہادر شاہ ظفر
جوش اور دیار دکن
مائل ملیح آبادی
سوانح حیات
دیار فکر
گوہر شیخ پوروی
مجموعہ
چند دن دیار غیر میں
عبداللہ عباس ندوی
دیار خوش نفساں
غلام رضوی گردش
خاکے/ قلمی چہرے
دیار حرم میں
علقمہ شبلی
دیار صبا
پیام فتحپوری
انتخاب
ہم وہاں ہیں جہاں کچھ بھی نہیں رستہ نہ دیاراپنے ہی کھوئے ہوئے شام و سحر کے ہم ہیں
ناصرؔ اس دیار میںکتنا اجنبی ہے تو
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیاملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میںکب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلےچراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوں
بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سبرکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے
نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکےکھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں
جلوۂ حسن ازل تھے وہ دیارجن کے اب نام و نشاں یاد نہیں
دیار شام نہیں منزل سحر بھی نہیںعجب نگر ہے یہاں دن چلے نہ رات چلے
ہم ایسے بے ہنروں میں ہے جو سلیقۂ زیستترے دیار میں پل بھر قیام سے آیا
دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سےسر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books