aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "digar"
مذاق بدایونی
1819 - 1894
شاعر
فرمان فتح پوری
1926 - 2013
مصنف
روزینہ ترانیکر دگھے
born.1979
لالہ چھنو لال دلگیر
1781 - 1848
دیدار بستوی
راکیش دلبر
born.1972
یشونت
1899 - 1985
دلدار ہاشمی
میک دزدار
1917 - 1971
کرتار سنگھ دگل
1917 - 2012
سید محمد دلدار علی
دلدار علی
born.1926
دیدار اکبرپوری
born.1996
دلدار دہلوی
born.1956
باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کیمری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
جدھر دیکھا نشورؔ اک عالم دیگر نظر آیامصیبت میں یہ دنیا اجنبی معلوم ہوتی ہے
ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہومقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے
ہمارا یہ انتخاب عاشق کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔
दीवारدِیوار
فارسی
(حیاتیات) اعضائے جسمانی پر کھال کا غلاف.
दिगरدگر
دیگر، دوسرا
जिगरجِگَر
وہ خون بستہ جو کل ذی روح کے پہلو میں ہوتا ہے جسے مخزن خون بھی کہتے ہیں، اعضائے رئیسہ میں سے ایک عضو کا نام، کلیجا، کلیجی
दीगरدِیگَر
بعد دوپہر کا وقت ، عصر.
عورت اور دیگر افسانے
رشید جہاں
کہانیاں/ افسانے
جہان دگر
احسان دانش کاندھلوی
دکن زندہ کردم
قیوم صادق
اشاریہ
شعر چیزے دیگر است
عمیق حنفی
شاعری تنقید
ڈاکوؤں کا سردار
نازاں ضیاء الرحمٰن
حکایات
کاغذ کا واسدیو اور دیگر افسانے
پریم ناتھ در
افسانہ
غلام بخش اور دیگر کہانیاں
مشرف عالم ذوقی
ارتقاء کائنات اور انسان و دیگر مضامین
پروفیسر بی شیخ علی
موٹے رام شاستری اور دیگر طنزیہ افسانے
پریم چند
رہبر راہ حق با مجموعۂ رسائل دیگر
محمد زردار خان
قصہ / داستان
قومی زبان اور دیگر پاکستانی زبانیں
لسانیات
افکار عقیدت
عطا عابدی
مجموعہ
میں نے پینا چھوڑ دیا اور دیگر مزاحیہ افسانے
کشوری لال
نثر
شہر خموشاں اور دیگر افسانے
موپاساں
صدائے جرس و دیگر افسانے
مسز عبدالقادر
ہارر فکشن
وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیںوہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں
چشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاں
اک خواب ہے کہ بار دگر دیکھتے ہیں ہماک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے
گمشدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیںمعجزہ ایسا مگر بار دگر ہونے کو ہے
اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توام
دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی
مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیودلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو
ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو توگلگوں اب تک کتنے تیشے بے خون فرہاد ہوئے
کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھتخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہم
وہی ظلم بار دگر ہے تو پھروہی جرم بار دگر کیجیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books