aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dikhaa.o"
دکشا بست
ناشر
دیکشا بسٹ
اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤمیں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا
اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھےناصحو میں سدھر گیا کب کا
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحبوہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
بلاؤ خدایان دیں کو بلاؤیہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
दिखाओدِکھاؤ
دِکھائی دینے کا عمل، نظارہ، دیدار، سامنا (ہونا)
खाओکھاؤ
کھانا (رک) کا فعلِ امر ؛ مرکبات و محاورات میں مستعمل .
दिखाईدِکھائی
ہندی
دیکھنے یا جائزہ لینے کا عمل یا کیفیت، نگرانی دیکھ بھال، معائنہ
बिखराओبِکھْراؤ
سنسکرت
پھیلاو، چھتراو
جہان دگر
احسان دانش کاندھلوی
عورت اور دیگر افسانے
رشید جہاں
کہانیاں/ افسانے
دکن زندہ کردم
قیوم صادق
اشاریہ
شعر چیزے دیگر است
عمیق حنفی
شاعری تنقید
ڈاکوؤں کا سردار
نازاں ضیاء الرحمٰن
حکایات
کاغذ کا واسدیو اور دیگر افسانے
پریم ناتھ در
افسانہ
غلام بخش اور دیگر کہانیاں
مشرف عالم ذوقی
ارتقاء کائنات اور انسان و دیگر مضامین
پروفیسر بی شیخ علی
موٹے رام شاستری اور دیگر طنزیہ افسانے
پریم چند
میں نے پینا چھوڑ دیا اور دیگر مزاحیہ افسانے
کشوری لال
نثر
رہبر راہ حق با مجموعۂ رسائل دیگر
محمد زردار خان
قصہ / داستان
قومی زبان اور دیگر پاکستانی زبانیں
فرمان فتح پوری
لسانیات
افکار عقیدت
عطا عابدی
مجموعہ
شہر خموشاں اور دیگر افسانے
موپاساں
صدائے جرس و دیگر افسانے
مسز عبدالقادر
ہارر فکشن
میں کل سے ناراض ہوں قسم سے اور ایک کونے میں جا پڑی ہوںہاں میں غلط ہوں دکھاؤ پھر بھی تمہی جھکاؤ مجھے مناؤ
کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہوکوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا
کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پرجس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دواس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دویہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیںیہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیںرستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیںاوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیںلیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دوجو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دوجاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارےدکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارےانگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارےہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارےاب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دوطوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دومانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھییہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھیوہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھیخوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھیلیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دوجس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دواب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریںاب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریںدنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریںجو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریںروداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دوجادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دومیں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تکغربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تکآشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تکجس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تکاب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دوخورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دوممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائےیہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائےدولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائےبرباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائےاس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گامنہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا
روز روشن میں اگر ان کو دکھاؤ تارےوہ یہ کہہ دیں گے کہ سرکار نظر آتے ہیں
اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمالفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فسادہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدارہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرحعیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتاشاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزارلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایکاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھرملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنسارینسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہےجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگاجس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے باتباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کاکام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھومالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیزقوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساںسب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گےقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گیتربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اےبھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیںقوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیںہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑیبند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتالیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئےکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتااہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہےتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاجمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیاآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیےمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزندقوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاںکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالوعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں
اللہ کرے تم آنکھیں دکھاؤ کبھی اسےجس شخص کو خمار کا مطلب نہیں پتا
ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کواگر پیسے دکھاؤ تو کھلونا چھوڑ دیتے ہیں
ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیںبہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے
کوئی مشہود ہے اب اور نہ کوئی شاہداور اگر ہے تو دکھاؤ کہ کڑی رات کٹے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books