aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "eraser"
ارسطو
مصنف
امداد صابری
1914 - 1988
سید انصر
born.1969
شاعر
اراکین مجلس ادبیات عالیہ اردو محفل
ناشر
اراکین بزم غالب
عبدالرشید ہانجورہ
محمد کلیم ارائیں
مطبع اکسیر اعظم، بنارس
محمود الرشید حدوٹی
مدیر
عبدالرشید آزاد
ضیاءالرشید
اراکین بزم سیرت صحابہ کمیٹی، بنارس
عمران عراقی
عزیر احمد عبدالرشید
ارسطو زمان
بھور آئی ہے اریزر کی طرحشب کی تحریر مٹا چاہتی ہے
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہجیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھےیہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوںکہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
مجبوری زندگی میں تسلسل کے ساتھ پیش آنے والی ایک صورتحال ہے جس میں انسان کی جو تھوڑی بہت خود مختاریت ہے وہ بھی ختم ہوجاتی ہے اور انسان پوری طرح سے مجبور ہوجاتا ہے ۔ مجبور ہونا ایک تکلیف دہ احساس کو جنم دیتا ہے اور یہیں سے وہ شاعری پیدا ہوتی ہے جس میں بعض مرتبہ احتجاج بھی ہوتا ہے اور بعض مرتبہ حالات کے مقابلے میں سپر انداز ہونے کی کیفیت بھی ۔ ہم اس طرح کے شعروں کا ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
شاعروں نے دلی کو عالم میں انتخاب ایک شہر بھی باندھا ہے اور بھی طرح طرح سے اس کے قصیدے پڑھے گئے ہیں لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس شہر کی ساری رونقیں ختم کر دی گئیں ، اس کے گلی کوچے ویران ہو گئے اور اس کی ادبی وتہذیبی مرکزیت ختم ہوگئی، بے حالی کے عالم میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے اور پورے شہر پر ایک مردمی چھا گئی۔ اس صورتحال نے سب سے زیادہ گہرا اور دیر پا اثر تخلیق کاروں پر چھوڑا ۔ شاعروں نے دلی کو موضوع بنا کر جو شعر کہے وہ بیشتر دلی کی اس صورتحال کا نوحہ ہیں ۔
عناصر شاعری
erase erase
مِٹانا
eraser eraser
کُھرَچْنی
ارسطو سے ایلیٹ تک
جمیل جالبی
تنقید
بوطیقا
شہر سخن آراستہ ہے
احمد فراز
کلیات
دیسی جڑی بوٹیاں
غلام محی الدین
آیوروید
الاکسیر
حکیم محمد کبیرالدین
اوراد فتحیہ
میر سید علی ہمدانی
تصوف
اوراد قادریہ
شیخ عبد القادر جیلانی
اردو ساخت کے بنیادی عناصر
نصیر احمد خاں
زبان
اکسیر الامراض
سید علمدار حسین
طب
سیاسی نظریے
ضیا الحسن فاروقی
قادریہ
شعریات
شاعری تنقید
گرو گرنتھ صاحب اور اسلام
ابو الامان امرتسری
سکھ ازم
نقوش ادب
شعبۂ اردو عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد
انتخاب
اوراق حیات
شاہ عمران حسن
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیبموت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
سب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوں
ہم نے اکثر تمہاری راہوں میںرک کر اپنا ہی انتظار کیا
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگرسفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بامپاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو
یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھی
ہے بہاروں کی روح سوگ نشیںسارے اوراق گل بکھر جائیں
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیاسوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیا
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
مضمحل ہو گئے قویٰ غالبوہ عناصر میں اعتدال کہاں
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسےوہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
عروس لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجابکہ میں نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books