aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "eraser"
بھور آئی ہے اریزر کی طرحشب کی تحریر مٹا چاہتی ہے
عبرت نے بیکسی کا نشاں بھی مٹا دیااڑتی تھی جس پہ خاک وہ تربت نہیں رہی
کھلے کچھ پیکر امید یا یہ وہم مٹ جائےنظر آئیں گی دھندھلی دھندھلی سی پرچھائیاں کب تک
ارسطو
مصنف
سید انصر
born.1969
شاعر
محمد کلیم ارائیں
ارسطو زمان
عز الدین ابن الاثیر الجزری
آر ایل آرچر
سید محمد عبدالرسول شاکی
العصر پبلیکیشنز، احمدآباد
ناشر
دفترالعصر، لکھنو
العصر پبلیکیشنز، دلی
العصر اکیڈمی، کراچی
العصر پبلیشرز، کراچی
ادارۂ اساس اردو، کراچی
العصر پبلیکیشنز، لاہور
ادارہ اوراق زریں، لاہور
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہجیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھےیہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوںکہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
شاعری کی دنیا میں کرشن کا روپ وہ روپ ہے، جسے میرا بائی اور سورداس نے لکھا ہے . اردو شاعروں نے اس روایت کو بخوبی نبھایا ہے ، جسے یہاں دی گئی نظموں کو پڑھ کر سمجھا جا سکتا ہے ...
eraseerase
مِٹانا
erasereraser
کُھرَچْنی
ارسطو سے ایلیٹ تک
جمیل جالبی
تنقید
بوطیقا
شہر سخن آراستہ ہے
احمد فراز
کلیات
اوراد فتحیہ
میر سید علی ہمدانی
تصوف
اوراد قادریہ
شیخ عبد القادر جیلانی
اردو ساخت کے بنیادی عناصر
نصیر احمد خاں
زبان
سیاسی نظریے
ضیا الحسن فاروقی
اساس عربی
محمد نعیم الرحمٰن
قادریہ
شعریات
شاعری تنقید
گرو گرنتھ صاحب اور اسلام
ابو الامان امرتسری
سکھ ازم
نقوش ادب
شعبۂ اردو عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد
انتخاب
اوراق حیات
شاہ عمران حسن
اوراق کربلا
سید اقبال حسین کاظمی
مرثیہ
اردو تنقید میں نفسیاتی عناصر
سید محمودالحسن رضوی
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیبموت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
سارے منصوبےسب ارادے
ہم نے اکثر تمہاری راہوں میںرک کر اپنا ہی انتظار کیا
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگرسفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بامپاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھی
سارے اوراق گل بکھر جائیںناز پروردہ بے نوا مجبور
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books