aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faasil"
سدرشن فاکر
1934 - 2008
شاعر
رحمان فارس
born.1976
فیصل امتیاز خان
born.2001
فاضل جمیلی
born.1968
فہیم جوگاپوری
فیصل عجمی
born.1951
سراج فیصل خان
born.1991
گویا فقیر محمد
1784 - 1850
فصیح اکمل
born.1944
فیصل فہمی
فہیم شناس کاظمی
born.1965
فہیم گورکھپوری
born.1878
ہلال فرید
born.1959
فیصل عظیم
born.1974
آفرین فہیم آفی
born.1998
فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پرکماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے
ہے کشادہ ازل سے روئے زمیںحرم و دیر بے فصیل نہیں
در فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹامیں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں
نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکےکھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں
فضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سے
مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔
نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
फ़सीलفَصِیل
عربی, ہندی
ہیضہ، بخار، میعادی بخار
हासिलحاصِل
عربی
پیداوار (کھیتی کی)
फैलپَھیل
ہندی
پھیلنا سے تراکیب میں مستعمل
फ़स्लفَصْل
دو چیزوں کا درمیانی فاصلہ، جُدائی، علیحدگی دُوری، بُعد
فصیل لب
رشید قیصرانی
غزل
فصیل شب
مرزا ادیب
ڈرامہ
وقت کی فصیل
محمد حامد سراج
افسانہ
مولانا ابوالکلام نمبر : شمارہ نمبر۔003
لئیق خدیجہ
فصیل
شارق عدیل
نظم
رضوان احمد
الجواب الفاصل بین الحق و الباطل
قاضی محمد اسمعیل
اسلامیات
کوثر صدیقی
شاعری
خاطر حافظی
انتخاب
تسکین زیدی
فصیل جاں
احسن نشاط
حامد الہ آبادی
شہر بے فصیل
امان افسر ایولوی
قول الفاصل بین الحق والباطل
مولوی محمد عبدالقادر ہزاروی
001
Mar 1988فصیل
بیکس کی آرزو میں پریشاں ہے زندگیاب تو فصیل جاں سے دیا بھی اتر گیا
جگنو ہی سہی فصیل شب میںآئینہ خصال آ گیا ہے
اب بھی اک لب میں اور تبسم میںحد فاصل ہے ایک دوری ہے
سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پرفصیل شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ کو
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
دریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہے
وہ موج خوں اٹھی ہے کہ دیوار و در کہاںاب کے فصیل شہر کو غرقاب دیکھنا
میں کہاں اور وہ فصیل کہاںفاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے
پسند آئی نہ ٹوٹی ہوئی فصیل کی راہمیں شہر تن کی گھٹن سے نکل بھی سکتا تھا
دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہےکرتے ہیں پاسبانی شہر اس فصیل سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books