aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "guzar"
گلزار
born.1936
شاعر
محسن نقوی
1947 - 1996
مصحفی غلام ہمدانی
1747 - 1824
بیدم شاہ وارثی
1876 - 1936
غلام محمد قاصر
1941 - 1999
میر حسن
1717 - 1786
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم
1899 - 1978
گلزار دہلوی
1926 - 2020
غلام عباس
1909 - 1982
مصنف
احمد راہی
1923 - 2002
قلق میرٹھی
1832/3 - 1880
ذکیہ غزل
born.1963
سیما غزل
born.1964
غلام حسین ساجد
born.1952
راسخ عظیم آبادی
1748 - 1823
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہےآج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپعمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔
गुज़रگُزَر
فارسی
باریابی، رسائی، پہنچ، آمد و رفت
गुज़रگُذَر
गुज़ारگُزار
گزر، رسائی، پہنچ، آنا جانا
बाज़ारبازار
خرید و فروخت کی جگہ، جہاں مستقل یا عارضی دکانیں ہوں، منڈی
جون ایلیا-خوش گزراں گزر گئے
نسیم سید
مقالات/مضامین
ہنس کر گزار دے
پاپولر میرٹھی
شاعری
روشن روشن راہ گزر
خنسا خان
مضامین
ساون گزر گئے
عندلیب صدیقی
بہ کوئے یار
سرور تونسوی
خاکے/ قلمی چہرے
میرے دن گزر رہے ہیں
آصف فرخی
غالب کی رہگزر
واجد سحری
راہ گزر تکتے رہے
سیماں
معاشرتی
راہ گزر یاد آیا
دت بھارتی
رومانی
دشوار گزار
محی الدین نواب
ناول
درد کی گذر گاہیں
احمد سوز
گزر گاہ خیال
بسمل اعظمی
رہے یہ رہ گذر شوق
فرحان سالم
سفر گزار
عزیز احمد خاں شفق
مجموعہ
قافلہ جو گزر گیا
نظام الدین احمد
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
جس طرح سے تھوڑی سی ترے ساتھ کٹی ہےباقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاوقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوںخیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوںکتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہےایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books