aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hisaar"
لالہ دیوی دیال گپتا اینڈ سنز مالکان گپتا، حصار
ناشر
مینیجر دارالکتب سلیمانی، حصار
زینت حسام
مصنف
نورالحسر انصاری
آرتھر ہیسال
زخمی حصاری
1905 - 1985
شاعر
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصارمطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے
مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کیجو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار ديں میں ہوملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر
تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہےلگی ہے آگ کہاں کیوں پتہ کیا جائے
محبوب کے بارے میں کون سننا یا کچھ سنانا نہیں چاہتا ۔ ایک عاشق کے لئے یہی سب کچھ ہے کہ محبوب کی باتیں ہوتی رہیں اور اس کا تذکرہ چلتا رہے ۔ محبوب کے تذکرے کی اس روایت میں ہم بھی اپنی حصے داری بنا رہے ہیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے جو محبوب کی مختلف جہتوں کو موضوع بناتا ہے ۔
हिसार حِصار
دائرہ، گھیرا، حلقہ
عربی
हिसाब حِساب
گنتی، شمار، میزان، جوڑ
निसार نسار
بے حال ، بے طاقت ، نزار ، کمزور ، ضعیف
سنسکرت
निसार نِثار
(لفظاً) بکھیرنا، (کنایۃً) نقد یا جنس بطور صدقہ کسی کے سر پر سے پھینکنا، نچھاور کرنا، صدقہ کو اتارنا
حصار
مظفر وارثی
مجموعہ
حصار بے درو دیوار
یاسمین حمید
فہیم اعظمی
سراج انور
حصار رحمت
حاصل سنبھلی
نعت
ناظم جعفری
حصار فکر
گوہر شیخ پوروی
غزل
حصار امکاں
عبد اللہ جاوید
حصار ذات سے پرے
نصرت مہدی
شاعری
نظمی سکندری آبادی
حصاردرد
حسن امام درد
مرزا شارق لاہر پوری
ہندوستان اپنے حصار میں
ایم۔ جے۔ اکبر
ہندوستانی تاریخ
یاس چاندپوری
حصار کی وادی میں
سفر نامہ
ہے مرا نام ارجمند تیرا حصار سر بلندبانو شہر جسم و جاں شام بخیر شب بخیر
اندرون حصار خاموشیشور کی طرح مچ رہا ہوں میں
صبح کو تنگ کیا خود پہ ضرورت کا حصارشام کو پھر اسی مشکل سے نکلتے دیکھا
حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوںمیں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں
میں کتنے حصار توڑ آئیجینا تھا محال آ گیا ہے
اطراف میرے کھینچا گیا خوف کا حصارڈہتے ہوئے مکان میں رکھا گیا مجھے
آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصار جسمکب تک اسیر خوشبو رہے گی گلاب میں
اپنے حصار ذات میں الجھا ہوا ہوں میںیعنی کہ کائنات میں الجھا ہوا ہوں میں
میں جسم کے حصار میں محصور ہوں ابھیوہ روح کی حدوں سے بھی آگے چلا گیا
میں ایک اور کھڑا ہوں حصار دنیا کےوہ جس کی ضد میں کھڑا ہوں ادھر نہ رہ جائے
افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میںحصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میں
بہت دن تک حصار نشہ یکتائی میں رکھاپھر اس چہرے کے اندر بھی کئی چہرے نکل آئے
ہوئی نہ ختم تیری رہ گزار کیا کرتےتیرے حصار سے خود کو فرار کیا کرتے
میں دھوپ کا حصار ہوں تو چھاؤں کی فصیلتیرا مرا حساب برابر سے کٹ گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books