aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jaale"
جلیل مانک پوری
1866 - 1946
شاعر
جلیل عالیؔ
born.1945
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
جلی امروہوی
1922 - 2013
ابراہیم جلیس
1924 - 1977
مصنف
ظ انصاری
1925 - 1991
جلیل حیدر لاشاری
جلیل الہ آبادی
جلیل قدوائی
1904 - 1996
برہما نند جلیس
1930 - 1999
جلیل حشمی
جلیل نظامی
حسن اختر جلیل
جلیل شیر کوٹی
جلیل ساز
دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیااپنے حق میں دعا کرے کوئی
بصارتوں پہ وہ جالے پڑے کہ دونوں کوسمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا کیا ہے
نہ جانے کتنی کشاکش سے کتنی کاوش سےیہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لائے ہیں
کب تک قمرؔ ہو شام کے وعدے کا انتظارسورج چھپا چراغ جلے رات ہو گئی
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
जले جَلے
جلا (رک) کی جمع یا مغیرہ حالت، تراکیب میں مستعمل
जाए جائے
जाने جانے
جانا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل
ہندی
जाते جاتے
جاتا (رک) کی مغیّرہ حالت ؛ جاتے ہوئے ، جاتے وقت ، جانے والا .
جلے ہوئے آسمان کے پرندے
زاہد امروز
نظم
دیا جلے ساری رات
خواجہ احمد عباس
افسانہ
جالے
شمشیر سنگھ نرولا
آشا کے دیپ جلے
رام کرشن پوپلی
ڈرامہ
جلے پیڑ کی چھاؤں
ایم کوٹھیاوی راہی
گھونگھٹ میں گوری جلے
کرشن چندر
دشت میں دیپ جلے
تمثیلہ لطیف
مجموعہ
شہر سخن
فیروزاللغات اردو جامع
مولوی فیروز الدین
لغات و فرہنگ
اگر اب بھی نہ جاگے تو
شمس نوید عثمانی
ترجمہ
جامع القواعد
ابواللیث صدیقی
زبان
جامع تاریخ ہند
محمد حبیب
ہندوستانی تاریخ
جامع الامثال
وارث سرہندی
کہاوت / محاورہ / ضرب المثل
جان غزل
بال سوروپ راہی
دو ملک ایک کہانی
سوانحی
سوئے تو دل میں ایک جہاں جاگنے لگاجاگے تو اپنی آنکھ میں جالے تھے خواب کے
تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلےیہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے
جلے جو ریت میں تلوے تو ہم نے یہ دیکھابہت سے لوگ وہیں چھٹ پٹا کے بیٹھ گئے
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہواگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئےایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے
دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھادیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں
جسم سو بار جلے تب بھی وہی مٹی ہےروح اک بار جلے گی تو وہ کندن ہوگی
یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاں
دھوپ جلے کہیں سایہ چاہیںاندھی راتیں دیپ دوالی
عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنےدل نے ہر بار کہا آگ پرائی لے لے
چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میںدودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم
ذرا سی دیر جلے جل کے راکھ ہو جائےوہ روشنی دے بھلے جل کے راکھ ہو جائے
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلےرکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books