aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khapat"
مینا خان
born.1975
شاعر
خاقان خاور
1935 - 2001
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
ادیب خلوت
خالدہ ادیب خانم
1884 - 1949
خباب احمد خاں امان
خدیجہ خانم داؤد
مولوی سید خیرات حسن
دیبا خانم
واحدہ خانم
بلقیس خانم
فن کار
تصور خانم
born.1970
خیرات ندیم
1922 - 1989
عابدہ خانم
ناشر
چاپخانۂ حیدری
بیچا ہے کوڑیوں کے مول اپنا مال سارااور اس طرح خود اپنی بڑھتی کھپت سے نکلے
نہیں اس رہ میں دوسرے کی کھپتآپ ہی اپنا رہ نما ہوں میں
واں کھپت ہی نہیں کیا جنس وفا لے جائیںان کی سرکار میں اک جور و ستم کا ہے بناؤ
بہت سا غم اس لیے منافع گھٹا کے بیچاکیا تھا جتنا در آمد اتنی کھپت نہیں تھی
اچھی کھپت ہے ان دنوں ہجر و وصال کیسو میں نے بھی بڑھا دیا ہے کاروبار کو
خفا ہونا اور ایک دوسرے سے ناراض ہونا زندگی میں ایک عام سا عمل ہے لیکن شاعری میں خفگی کی جتنی صورتیں ہیں وہ عاشق اور معشوق کے درمیان کی ہیں ۔ شاعری میں خفا ہونے ، ناراض ہونے اور پھر راضی ہوجانے کا جو ایک دلچسپ کھیل ہے اس کی چند تصویریں ہم اس انتخاب میں آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
खपतکَھپَت
ہندی
سمائی، گنجائش، جگہ
खपाटाکھپاٹا
بڑا ٹہنا جو ٹوٹ کر درخت سے علیحدہ ہو جائے
खप्टाکَھپْٹا
لکڑی یا این٘ٹ کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا.
खापटکھاپَٹ
سنسکرت
گرگِ باراں دیدہ، پرانا، تجربہ کار، گھاگ، کائیاں
خبر نگاری
احمد نسیم سندیلوی
صحافت
ازالۃ الخفا عن خلافتہ الخلفا
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلامیات
کہاوت اور کہانی
سیفی پریمی
کہاوت / محاورہ / ضرب المثل
اندرون ہند
تہذیبی وثقافتی تاریخ
ای کامرس
خاقان حیدر
عبدالرحیم خان خانان اور ان کے دوہے
حسن عزیز
دوہا
ترقی پسند تنقید
تنویرہ خانم
مقالات/مضامین
آخری وعدہ
رومانی
خمخانہ جاوید
لالہ سری رام
تذکرہ
ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
عالمی تاریخ
مجلس خلوت
یوسف حسن
جنسیات
صنم خانۂ عشق
امیر مینائی
دیوان
اندرون حیدرآباد
خواتین کی تحریریں
اب وفا کی کھپت نہیں کوئیبند کر دی دکان حیرت میں
کیوں نقد بیچنے پہ بضد ہو تم اپنی باتحالانکہ اب ادھار میں اس کی کھپت نہیں
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلودھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکنخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہمبے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتناہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books