aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khole"
البہی الخولی
مصنف
دیکھو اچھا نہیں یہ تمہارا چلن یہ جوانی کے دن اور یہ شوخیاںیوں نہ آیا کرو بال کھولے ہوئے ورنہ دنیا میں بدنام ہو جاؤ گے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔاداسی بال کھولے سو رہی ہے
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
میں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیںتم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولے
زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیںمیں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں
ناموراردو فکشن رائیٹر- شاہکار افسانوں کے خالق، جن میں 'ٹھنڈا گوشت' ، 'کھول دو' ، ٹوبہ ٹیک سنگھ'، 'بو' وغیرہ قابل ذکر ہیں
चले چَلے
چلا کی محّرفہ شکل، چلنا سے مشتق، تراکیب میں مستعمل
खुले کُھلے
کُھلا (رک) کا صیغۂ جمع نیز مغیرّہ حالت تراکیب میں مستعمل
भले بَھلے
ہندی
بھلا کی حالت مغیرہ
ख़ाले' خالع
عربی
خلع حاصل کرنے والا مرد یا عورت، وہ مرد یا عورت جو کچھ دے کر طلاق حاصل کرے
کھلے دریچے سے
شاعری
کھوئے ہوؤں کی جستجو
شہرت بخاری
عورت اسلام کی نظر میں
اسلامیات
خاموشی لب کھول رہی ہے
اشہد کریم الفت
مجموعہ
بادبان کھول دو
اے۔ حمید
ناول
کھلے دریچے بند ہوا
مظفر وارثی
پتھر پتھر پھول کھلے
شرف رشیدوف
دل کے دریچے کھلے رکھیے
ایم۔ سعید اعظمی
مضامین
در کھلے پچھلے پہر
عبد الاحد ساز
پر کھلے تو
شمیم عباس
کان کھلے ہونٹ سلے
حمید اکبر
افسانہ
دروازے کھول دو
کرشن چندر
ڈرامہ
تحریک اور دعوت
پھول کھلے چمن چمن
چمن لال چمن
کھلے قفس کی گھٹن
جوہر رانا
اتنی گرہیں لگی ہیں اس دل پرکوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے
لب کھولے پری زاد نے آہستہ سے ثروتؔجوں گفتگو کرتا ہے ستارے سے ستارا
خدا جانے غبار راہ ہے یا قیس ہے لیلیٰکوئی آغوش کھولے پردۂ محمل سے ملتا ہے
تلاش منزل مقصد کی گردش اٹھ نہیں سکتیکمر کھولے ہوئے رستے میں ہم رہزن کے بیٹھے ہیں
دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔکھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی
اپنی اس عادت پہ ہی اک روز مارے جائیں گےکوئی در کھولے نہ کھولے ہم پکارے جائیں گے
شب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگریہ انتظار ہے کب چاندنی نکلتی ہے
احتیاط رکھنے کی کوئی حد بھی ہوتی ہےبھید ہم نے کھولے ہیں بھید کو چھپانے میں
چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولیسہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی
کوئی البیلی خوشبو بال کھولے مسکراتی ہےوہ لڑکی یاد آتی ہے
چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دلآنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے
میں نے موت کے بال کھولےاور جھوٹ پہ دراز ہوئی
جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئیپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books