aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khumo.n"
خمار بارہ بنکوی
1919 - 1999
شاعر
سلیمان خمار
born.1944
خمار قریشی
خمار میرزادہ
born.1984
خمار دہلوی
born.1960
خمار فاروقی
ریاض احمد خمار
خمار انصاری
جے، سی، کماں رپا
مصنف
ستنام سنگھ خمار
کھیمن یو۔ ملانی
مترجم
کماؤں اسکول آف یوگا، یو۔ پی۔
ناشر
محمد ذوالقدر خمار
آوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقیاک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں
کھول دے منہ خموں کے پیر مغاںآج ہی امتحان ہے گویا
بھری ہوئی ہیں شرابیں خموں میں رنگا رنگمزے ہیں سب کے جداگانہ پر خمار ہے ایک
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے
مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔
آتش تر
غزل
رقص مے
قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ
آغا افتخار حسین
تاریخ
انشائے داغ
احسن مارہروی
خطوط
فلسفۂ تاریخ
غلام محمد احمد
عالمی تاریخ
حدیث دیگراں
مجموعہ
دوسری جنگ عظیم اور ایشیائی قوموں پر اس کا اثر
ڈی ایفیموف
کتب اور کتب خانوں کی تاریخ
اشرف علی
اللہ دے بندہ لے
رضیہ سجاد ظہیر
خواتین کی تحریریں
کماؤں کے آدم خور
جم کوربیٹ
شکاریات
آدمی نامہ
مجتبی حسین
اسلامی کتب خانوں کی سیر
محمد زبیر
اشاریہ
عکس غالب
آل احمد سرور
خونیں نوا
عرفان ترابی
خون وشہد
شوکت صدیقی
اصلاحی و اخلاقی
آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پراس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
بت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے توترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہےکسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہمقسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوںتو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books