aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kinaaraa"
اشفاق حسین
born.1951
شاعر
مہیش چندر نقش
1923 - 1980
چندر شیکھر ورما
born.1967
چندر پرکاش جوہر بجنوری
1923 - 1995
اکھلیش چندر پانڈے
مصنف
رمیش تنہا
born.1936
منیش چندرا
born.1972
شرت چندر چٹرجی
1876 - 1938
کنور پرتاپ چندر آزاد
پرشانک چندرا
born.1980
چندر پرکاش شاد
عبدالسلام سائنس اکیڈمی، کنیڈا
ناشر
عباس کرارہ مصری
سریش چندر شوق
شرت چندر
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کرتیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محلیہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
یہ پانی ہوا اور یہ شمس و قمریہ موج رواں یہ کنارہ بھنور
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنامیں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
"اردو کتابوں میں فلموں کا حسین جہاں" ریختہ ای بکس کی طرف سے پیش کردہ ایک منفرد کلیکشن ہے جس میں ایسی اردو کتابیں شامل ہیں جو سینما کی دنیا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ یہ کتابیں فلموں کی تاریخ، کہانیاں، فن، تخلیق اور اداکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔
किनारा کنارا
کونہ ، طرف ، گوشہ ، حاشیۂ فیتہ جو دو شالوں ، چادروں کے جوڑوں وغیرہ پر لگاتے ہیں.
किनारा کِنارَہ
گوشہ، کونا، کھونٹ، کنج
فارسی
किनारी کِنارِی
۲. پہیے کا حلقہ یا گھیرا ، چھلنی کا گھیرا ، حلقہ.
ہندی
किनारा रहना کِنارَہ رَہنا
دُور رہنا.
دوسرا کنارہ
وزیر آغا
مضامین
کنارا
سلمیٰ کنول
اصلاحی و اخلاقی
دور کنارا
مصحف اقبال توصیفی
نظم
جنوں کنارا
اسعد بدایونی
مجموعہ
دوسرا کنارا
ایک شام کا دوسرا کنارہ
احمد زین الدین
افسانہ
غلام جیلانی
ڈرامہ
منجدھار اور کنارا
الیاس اصلاحی
محمد عمر قدسی
غزل
دھوپ کنارا
جمیل زبیری
رات کا دوسرا کنارہ
اشرف عادل
ٻ ڪنارا
بہتا پانی دور کنارا
شرن
کہانی
کنارا نہ ملا
قیسی رام پوری
ناول
کام آئے نہ مشکل میں کوئی یہاں مطلبی دوست ہیں مطلبی یار ہیںاس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا اے فناؔ اس جہاں سے کنارہ کرو
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطراتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے
اپنی مستی میں بہتا دریا ہوںمیں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں
محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لیناکسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے
اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میںاور ترے ریشمی آنچل کا کنارا نہ ملے
اٹھو ساتھی دور افق کانرم کنارا کانپ اٹھا ہے
یہ دھوپ کنارا شام ڈھلےملتے ہیں دونوں وقت جہاں
تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پاراس کنارے بھی کنارا تھا کبھی
ایک مٹھی ریت میں کیسے رہےاس سمندر کا کنارہ اور ہے
میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوںجزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو
پاؤں رکھتے ہی پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریتہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
رین اندھیری ہے اور کنارہ دورچاند نکلے تو پار اتر جائیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books