aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kothaa.e"
بانو قدسیہ
1928 - 2017
مصنف
عمران الحق چوہان
شاعر
دویا بھسین کوچر
born.1985
ثمر خانہ بدوش
ظہور چوہان
born.1971
نور محمد چوہان
شمع بھلیسی
born.1972
رنجیت چوہان
فن کار
پرمود چوہان
born.1974
مہتہ گور دیال کوشل
مدیر
کوشل فرحت
نریندر سنگھ چوہان
ناشر
ٹھاکر سکھرام داس چوہان
بابر جمیل چوہان
برکت علی چوہان
حسینؓ! تومی کوتھائے؟مہابت جنگ کی یہ سرزمیں
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئیتو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیےوہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوںکوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہسکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
खाए کھائے
کھانا کا فعلِ مضارع اور ماضی مذکر کی جمع، مرکبات و محاورات میں مستعمل
कोठा کوٹھا
چھت، بام
ہندی
कोथा کوتھا
मिट्टी के बर्तनों आदि का वह पूर्व रूप जो मिट्टी को चाक पर रखने के बाद बनता है
कोशाँ کوشاں
کوشش کرنے والا، سعی کرنے والا، تگ و دو کرنے والا، دوڑ دھوپ کرنے والا
فارسی
کربل کتھا
فضل علی فضلی
افسانوی ادب
کیمیا اور کیمیا گری
رفیق روزگار
دیگر
جنسی الجھنیں اور ان کا حل
جنسیات
ایک قطرہ خون
عصمت چغتائی
تاریخی
منٹو کتھا
برج پریمی
تنقید
رموز کیمیا
کال کوٹھری
حمید اختر
خطبہ نکاح
مجیب اللہ ندوی
اسلامیات
پھلوں اور پھولوں سے علاج
طب
کوچۂ جاناں جاناں
کلیم عاجز
مجموعہ
غدیر خم اور خطبۂ غدیر
سید ابن حسن نجفی
کوچۂ قاتل
رام لعل
خود نوشت
شیریں کتھا
ممتاز شیریں
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پارجو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
ہم سے بھی تو سودا ممکن ہے تم سے بھی جفا ہو سکتی ہےیہ اپنا بیاں ہو سکتا ہے یہ اپنی کتھا ہو ہو سکتی ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویرنوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتےجان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
وہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہ
گھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئےدیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے
قطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلکقطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہےلیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد
چلو اب یادگاروں کی اندھیری کوٹھری کھولیںکم از کم ایک وہ چہرا تو پہچانا ہوا ہوگا
ایک بوڑھا آدمی ہے ملک میں یا یوں کہواس اندھیری کوٹھری میں ایک روشن دان ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books