aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "les"
لیو ٹالسٹائی
1828 - 1910
مصنف
گستاؤ لی بان
1841 - 1931
ہارپر لی
1926 - 2016
ٹائم لس پرنٹنگ سرویسز، دہلی
ناشر
شاعر
لین۔ یو۔ ٹونگ
رچرڈ لی گیلین
لیو سی، فے
جی۔ لی۔ سٹرینج
لیو ہیوبرمین
ولیم لی
مدیر
کیتھولک ٹائمز، لیہ
آرٹ لینڈ، لیہ
مطبع لیسی، کولکاتہ
مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب لندن میں کار کو HORSE-LESS CARRIAGE (بغیر گھوڑے کی گاڑی) کہتے تھے۔ میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب ٹرام کو گھوڑے کھینچتے تھے۔ اس لیے اس کی رفتار موجودہ ٹرام سے کہیں زیادہ تیز ہوتی تھی۔...
and English. In Persian alone, there are as many as twenty versions of this story and in Urdu not less than fifteen. Juda hai Heer se Ranjha kayi zamaanon se/Naye sire se kahaani ko phir likha jaai (Nida Fazleli), Ban na paaya Heer, Ranjha ab bhi Ranjha hai bahut/Dekh Waris...
بارے میں فکرمند نہیں ہے تو وہ ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ کا جواب یہ دےگا کہ ’’مجھ سے کیا مطلب؟‘‘ ، ’’مجھے کیا فکر ہے؟‘‘ یعنی، I couldn’t care less...
ملاحظہ ہو، Structuralism, ED. Jacques Ehrmann,1966, رفائیٹر نے سوال اٹھایا تھا کہ اسلوبیات یہ تو بتا سکتی ہے کہ مختلف لسانی خصائص میں سے کسی فن پارے کے اپنے امتیازی خصائص کیا ہیں لیکن اس کا فیصلہ کیسے کیا جائےگا کہ وہ کون سے خصائص ہیں جو کسی فن پارے...
سکندراورایران کے بادشاہ دارا کے درمیان کئ جنگیں ہوئیں لیکن سکندردارا کی تدبیروں کی وجہ سے شکست کھا جاتا تھا۔ دارا جام جہاں نما کی مدد سے سکندرکی تمام نقل وحرکت اورتیاریوں سے آگاہ ہوجاتا اورسکندرکی تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ جاتیں۔...
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
غالب کے کلام میں جو فکری گہرائی اور جذبات کی شدت ہے، ان میں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز دے کر ایسی فضا قائم کی ہے کہ کلام اور آواز کے سنگم میں سامع کھو سا جائے۔ اس انتخاب میں غالب کی وہ غزلیں شامل ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز میں پیش کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ غالب کی وہ کون سی غزلیں ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز سے سجایا ہے۔
देस دیس
۱. وطن ، علاقہ ، ملک ، صوبہ ، شہر .
سنسکرت
lees lees
گاد
लेसू لیسُو
(پنواڑی) پان کی ساٹھ ڈھولیوں کا ایک گٹّھا جب کہ ایک ڈھولی میں دوسوں پان ہوتے ہیں.
लेसी لیسی
لےگا ، لیتا .
لیس کونٹیس ڈو حب ترنگ
سید محی الدین قادری
مثنوی
آننا کارینینا
ناول
جنگ اور امن
عورت، مرد کے تعلقات
ہند اسلامی تہذیب کا ارتقاء
عماد الحسن آزاد فاروقی
تہذیبی وثقافتی تاریخ
بچپن لڑکپن جوانی
سوانحی
تمدن عرب
تاریخ
لیٹس لرن اردو
گوپی چند نارنگ
نغمے کا قتل
اصلاحی و اخلاقی
لے سانس بھی آہستہ
مشرف عالم ذوقی
جینے کی اہمیت
بلاد فلسطین و شام
جی لی اسٹرنج
ہمارے زمانے کی غلامی
سیاسی تحریکیں
غلامی کا انسداد یا غریب کی دنیا
رفاقت اور موانست کے عناصر کی دریافت کرتے ہیں، انیسویں صدی کے تمام ہندوستانی شاعروں میں ایک غالب کے استثنا کے ساتھ ہمیں ناپید نظر آتی ہیں۔ غالب کو اپنے ہم عصر ملے بھی تو کہاں؟ فرانس میں لے دے کے ایک بودلیر (Les Fleurs du mal) (۱۸۲۱تا ۱۸۶۷۔...
انہیں بخوبی علم تھا کہ وصل کی آگ میں جلتے وقت میاں کا حسد نیم شب میں کس قدر خوش رنگ بن جاتا ہے۔ اسی لیے وہ انہیں اک ادائے دل بری سے جتاتی تھی۔ "Let there be a pinch of jealousy when other men in the party drool over...
یہ لڑکی ایک دوسری نسل سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے دکھ دوسرے تھے۔ اس نسل کی قسمت میں جتنے دکھ لکھے تھے، سہ چکی تھی۔ وہ آزاد برصغیر۔ Root less نوجوان پیڑھی کی ایک فرد تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے پچھلے پچاس برس تک آزادی کی لڑائی لڑی، ان...
گوڈرڈ نے لکھا ہے، The Earlier stories are invariably the tales of the physically strongest and most perfect over-thrown and defeated by the weaker by the less physically strong, by the more intellectually potent, It is Always a giant killed by the insignificant jack, of the fire-rating dragon killed by...
وہ ہونٹوں سے سیٹی بجاتا بجاتا اپنے فلیٹ سے نکلا۔ دورازے کو تالا لگاتے ہوئے اُس نے سوچا آج آخری دن ہے آج دن کو کسی وقت بھی اُسکی بیوی وآپس آ رہی تھی اور پھر وہ ناشتہ کرنے باہر نہیں جایا کرے گا ویسے تو وہ پچھلے کچھ دنوں...
سب کے سب موشن لیس (MOTION LESS) غیر متحرک! ان کی تو آنکھیں بھی مجسموں کی آنکھوں کی طرح پتھرائی ہوئی تھیں۔ اور دل! وہ بھی دھڑکنا بھول گیا تھا۔ ’’کچھ کہو۔۔۔ کچھ کہو۔۔۔‘‘ وہ سب کے سب یک زبان ہوکر بولے۔...
دیکھتا ہوںگرم گہرے لیس کے دریا میں
گھٹا ٹوپ اندھیرا اور اندھیرے میں ڈوبا ایک جزیرہ‘ جزیرے کے وسط میں ایک شہر لیس بوس (LES BOSE)، ویران سڑکیں اور خاموشی کا سینہ چیرتی تیز رفتار گاڑیوں کی آوازیں۔ جیسے جیسے رات بھیگتی گئی آوازیں مدھم پڑتی گئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ آوازیں معدوم ہو گئیں...
’’ایں؟‘‘ ہو سکتا ہے ممیؔ اجازت نہ دیں ۔ لیکن دیکھتی ہوں بہلا پھسلا کے کہہ دوں گی کہ فرینڈز کی پارٹی میں جا رہی ہوں ۔ مڑتے ہوئے سمیر کی نظر اس کے Back Less کپڑے پر پڑیں جو صرف دو پٹیوں کے سہارے جسم پر ٹکا ہوا تھا۔...
چبا لیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچہتمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلبگرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے
اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنےاس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیںہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا
اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books