aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mohammad rafi"
محمد رفیع سودا
1713 - 1781
شاعر
محمد رفیع
مصنف
1924 - 1980
فن کار
مولوی محمد رفیع
محمد رفیع فاضل دیوبندی
مدیر
میرزا محمد رفیع
محمد رفیع رضوی
محمد رفیع کلوری
محمد رفیع انصاری
محمد رفیع خان
مفتی محمد رفیع عثمانی
محمد رفیع رفعت انصاری امروہوی
محمد رفیق حجازی
نثار راہی
born.1969
محمد رفیق ندوی شاد
born.1965
عجب طرح کی ہے اک ناراس کا کیا میں کروں بچاروہ دن ڈوبے پی کے سنگلاگے رہے نسوا کے رنگدیا برے تو وہ شرمائےڈھک کے سر وہ دور ہو جائے
خر آگے اور پیچھے کانجو بوجھے سو چتر سجان
بہت کام کا ہے اک نرآدھے دھڑ میں اس کا گھرکبڑا ہو کر گھر میں بیٹھےکام کرے نہیں ٹھالا بیٹھے
چاروں اور اندھیرا نکلاجانے کہاں سویرا نکلا
دیکھے بلبل جو یار کی صورتپھر نہ دیکھے بہار کی صورت
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
گنج شائگان
آندھیوں میں چراغ
خمیازہ
رفع دفع
معانی و بیان
كلیات سودا
دیوان سودا
دیوان
دستاروکلاہ
اوراق شب
مجموعہ
مرزا محمد رفیع سودا
مظہر احمد
مونوگراف
کلیات سودا
کلیات
انتخاب
گنج شائیگان معروف بہ ٹکسال
قاضی افضال حسین
یقیں کیسے کیسے گماں کیسے کیسےہیں آباد مجھ میں جہاں کیسے کیسے
سوچتا ہوں کہ آدمی کیا ہےغم ہے کیا چیز اور خوشی کیا ہے
پاس اپنے کوئی چارا ہی نہ تھاجو ہمارا ہے ہمارا ہی نہ تھا
نہ جیا تیری چشم کا مارانہ تری زلف کا بندھا چھوٹا
کہیو صبا سلام ہمارا بہار سےہم تو چمن کو چھوڑ کے سوئے قفس چلے
بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرےاپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے
جس دم وہ صنم سوار ہووےتا صید حرم شکار ہووے
کس قدر بے رخی سے ملتے ہیںخواب جب زندگی سے ملتے ہیں
غم بھی تنہا ہے اور خوشی تنہااس قدر کیوں ہے زندگی تنہا
ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغاے مسلمانینہ ٹوٹی شیخ سے زنار تسبیح سلیمانیہنر پیدا کر اول ترک کیجو تب لباس اپنانہ ہو جوں تیغ بے جوہر وگرنہ ننگ عریانیفراہم زر کا کرنا باعث اندوہ دل ہووےنہیں کچھ جمع سے غنچے کو حاصل حز پریشانیخوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کینہ جھاڑے آستین کہکشاں شاہوں کی پیشانیعروج دست ہمت کو نہیں کچھ قدر بیش و کمسدا خورشید کی جگ پر مساوی ہے زرا فشانیکرے ہے کلفت ایام ضائع قدر مردوں کیہوئی جب تیغ زنگ آلود کم جاتی ہے پہچانیاکیلا ہو کے رہ دنیا میں گر جینا بہت چاہےہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانیاذیت وصل میں دونی جدائی سے ہے عاشق کوبہت رہتا ہے نالاں فصل گل میں مرغ بستانیموقر جان ارباب ہنر کو بے لباسی میںکہ ہو جو تیغ با جوہر اسے عزت ہے عریانیبہ رنگ کوہ رہ خاموش حرف نا سزا سن کرکہ تابدگو صداے غیب سے کھینچے پشیمانینہیں غیر از ہوا کوئی ترقی بخش آتش کانفس جب تک ہے داغ دل سے فرصت کیوں کے ہو پانییہ روشن ہے بہ رنگ شمع ربط یاد و آتش سےموافق گر نہ ہو وے دوست ہے وہ دشمن جانیکرے ہے دہر زینت ظالموں پر تیرہ روزی کوکہ زیب ترک چشم یار سرمہ ہے صفا ہائیطلوع مہر ہو پامال حیرت آسماں اوپرلکھوں بہر غزل گر اس زمیں میں مطلع ثانی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books