aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mu.ammaa"
منصور ابن الیاس
مصنف
امام محمد
749 - 805
المقدسی
دفتر اردوئے معلیٰ، کانپور
ناشر
جناب ستطاب معلیٰ
علامہ شمس الدین ذہبی
آئی۔ ڈبلیو۔ موما
دفتر اردوئے معلی، دہلی
ادارہ اردوئے معلی، اڑیسہ
ابن خلکان
1211 - 1282
ابو عیسی محمد بن عیسی
824 - 892
معلی حیدر آبادی
1904 - 1978
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کازندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتاوہ کچھ پڑھتے ہوئے آگے مرے مدفن کے بیٹھے ہیں
مجاز قید معمہ شبیہ استقبالکسی سے آنکھ ملانے میں ادبیات پڑھی
اک معمہ ہے زندگی اے دوستیہ بھی تیری ادائے مبہم ہے
मु'अम्मा مُعَمَّیٰ
मु'अम्मा مُعَمّا
اندھا کیا گیا، نابینا کردہ شدہ، کور
عربی
मु'अम्मा مُعَمَّہ
मु'अम्मा مُعَمَّ
عمامہ یا پگڑی باندھا ہوا، کام کیا ہوا، جس سے قوم کے افراد رجوع کریں، سردار، بزرگ
مسٹر جناح کا پُر اسرار معمہ اور اس کا حل
حسین احمد مدنی
سیاسی تحریکیں
معمہ خاتون
شوکت تھانوی
طنزیہ و مزاحیہ
صحیفۂ نامی
حافظ محمد یوسف خاں
رسالۂ معما
دیگر
رہنمائے معمہ
شہزادہ تبسم
اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم
حنیف کیفی
نظم تنقید
اردوئے معلی
مرزا غالب
خطوط
اصول لغت
آل انڈیا ایجوکیشنل لٹریری بک سوسائٹی رجسٹرڈ لاہور
لغات و فرہنگ
غالب نمبر: شمارہ نمبر ۔001
خواجہ احمد فاروقی
اردوئے معلی، دہلی یونیورسٹی
اردوئے معلّیٰ: غالب نمبر
ارتضٰی کریم
کتاب التصوف مسمی بہ لطائف المعارف
عبدالعلیم صدیقی
قلعہ معلی کی جھلکیاں
عرش تیموری
مضامین
المعتمد فی المعتقد
شہاب الدین تورپشتی
ترجمہ
شمارہ نمبر ـ 001
حسرتؔ موہانی
اردوئے معلی، علی گڑھ
تاریخ الخلفاء کا ترجمہ مسمّی بہ بیان الامراء
علامہ جلال الدین سیوطی
تاریخ
صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنابات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہنا
ہم دونوں جو حرف تھےہم اک روز ملے
معمائے تکلف سر بمہر چشم پوشیدنگداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجودکیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے
تمہاری آنکھیں سمجھ نہ پائےہر اک معمہ سمجھ لیا تھا
فنا سے گزروں تو کچھ آشکار ہو شایدکہ زندگی میں معما بنا ہوا تھا میں
صبح کے سویرے ہیںیہ عجب معمہ ہے
خواہشوں کے لشکر سے روز لڑتا رہتا ہوںیہ بھی اک معمہ ہے دشمنی نہیں ہوتی
ہے ختم یار جانی تیرے دہن کی تنگیکہنے کی بات نیں ہے باریک ہے معما
حل کر دیا تھا جس نے معمہ شباب کاتجھ سے وہ فکر عقدہ کشا کون لے گیا
حسن بے تماشا کی دھوم کیا معما ہےکان بھی ہیں نامحرم آنکھ بھی ترستی ہے
ہر قدم ایک معمہ بن جائےزندگی تجھ کو جہاں تک سوچوں
اک معمہ تھا میرا مستقبلکتنی مشکل سے حال تک پہنچا
بن گئی حسن طلب بھی تو معمہ اے دلؔدرد مانگا تھا وہ سمجھے کہ دوا مانگی تھی
وہی مطلوب ہو وہی طالباک معما ہوا خدا نہ ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books