aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pahan"
پون کمار
شاعر
ہریندر شرما پاشان
born.1991
پون ورما
born.2002
امان پٹھان
born.1992
سفیان صوفی
پون شرما
مصنف
پون کرن
ڈاکٹر زاہدہ پٹھان
محمد پالن حقانی
ایس۔ این۔ پٹھان
خیال و فن پبلیشرز، لاہور
ناشر
محمد شاہد پٹھان
انجمن عظمت فن منڈی بہاءالدین
دیار فکر و فن، کلکتہ
رائے پران ناتھ
تو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیں
کیوں مری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لیےایک چہرہ کوئی اپنا بھی خدا کا ہوتا
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوںبرہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
ساتھ کے سبھی دیے دھواں دھواں پہن گئےاور ہم جھکے جھکے
یہ کہہ کے اوڑھ لی سر پر نور پر رداموزے پہن کے گود میں شبیر کو لیا
ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف
कहाँ کَہاں
کس جگہ، کس طرف، کدھر
ہندی
पहन پہن
۔(ف۔ بفتح اول ودوم بروزن (دَہن) مذکر۔ وہ دودھ جو محبت کے جوش سے ماں کی چھاتیوں میں ابھرآئے۔
जहाँ جَہاں
تمام عالَم، دنیا کے لوگ، عالَم
سنسکرت, فارسی
पायाँ پایاں
پایان کا مخفف، انتہا، حد (آباد)
تحقیق کا فن
گیان چند جین
تحقیق کے طریقہ کار
فن ترجمہ نگاری
خلیق انجم
مقالات/مضامین
فن شعر و شاعری اور روح بلاغت
حمیداللہ شاہ ہاشمی
زبان
اردو میں فن سوانح نگاری کا ارتقاء
ممتاز فاخرہ
تنقید
ظہورالدین
ترجمہ: تاریخ و تنقید
انگریزی ترجمہ کا فن
محمد طیب دہلوی
فن مضمون نگاری
آفتاب اظہر صدیقی
مضامین/ انشائیہ
فن شاعری
علامہ اخلاق دہلوی
شاعری تنقید
گفتگو اور تقریر کا فن
ڈیل گارنیگی
فلسفہ
ترجمہ: روایت اور فن
نثار احمد قریشی
ڈراما فن اور روایت
محمد شاہد حسین
فکشن تنقید
قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری
ایم کمال الدین
قصیدہ تنقید
داستان کا فن
اطہر پرویز
فن خطابت
شورش کاشمیری
خطبات
فن افسانہ نگاری
وقار عظیم
افسانہ تنقید
سیاہ رنگ چمکتی ہوئی کناری ہےپہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئےسردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیںکلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں
وہ میری دی ہوئی نتھنی پہن کے گھومتی ہےتبھی وہ ان دنوں کچھ اور نک چڑھی ہوئی ہے
اترا رہے ہو آج پہن کر نئی قبادامن تھا تار تار ابھی کل کی بات ہے
کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادےپہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے
دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیاپیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا
تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
سفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کر
دھوپ کے دستانے ہاتھوں میں پہن کربرف کی چادر اتاری جا رہی ہے
ہم سر پہ کفن باندھ کر پیدا ہوئے ہیںکوئی انگوٹھی پہن کر نہیں
ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلاایک میں پیرہن خاک پہن کر نکلا
اسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کواگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا
نفرتوں کا وہی ملبوس پہن لو پھر سےعین ممکن ہے یہ دنیا تمہیں پہچانی نہ ہو
لحاف 'عصمت' کا اوڑھ کر تم فسانے 'منٹو' کے پڑھ رہی ہوپہن کے 'بیدی' کا گرم کوٹ آج تم سے آنکھیں ملا رہا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books