aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "patii"
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
مصنف
محمد اسماعیل پانی پتی
1893 - 1972
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
1730 - 1810
صائب ایس ایم پاٹل
born.1984
شاعر
چمو پتی
محمد عبدالحمید پانی پتی
غلام حسنین پانی پتی
مادھوری پئی
راجیش کمار پرتی
مدیر
ایم۔ طاہر پٹنی
سرل پتر
جی۔ کے۔ پئی
پٹا بھائی سیتا رامیہ
پری سیما خاتون
شیر بہادر خان پنی
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھییہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گااگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا
ہم ایک ساتھ رہے اور ہمیں پتہ نہ چلاتعلقات کی حد بندیاں بھی ہوتی ہیں
باتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیے
گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہےرنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
سفر میں رہبر کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ قافلے کے لٹنے کے پیچھے رہبر کی دغابازیاں تصور کی گئی ہیں ۔ شاعروں نے اس مضمون کو ایک وسیع تر استعاراتی سطح پر برتا ہے اور نئے نئے پہلو تلاش کئے ہیں ۔ یہ شاعری نئی حیرتوں کے ساتھ نئے حوصلے پیدا کرتی ہے ۔ ایک انتخاب حاضر ہے ۔
راستہ ، سفر، منزل ، مسافر اور اس قسم کی دوسری لفظیات جو سفر ہی کے علاقے کی ہیں شاعری میں کثرت سے برتی گئی ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے اشعار پیش کر رہے ہیں جن میں راستہ اپنی تمام تر رسومیات کے ساتھ در آیا ہے ۔ یہ راستہ کبھی ملتا بھی ہے اور منزل تک پہنچاتا بھی ہے اور کبھی گم ہوجاتا ہے ۔ راستے کی پیچیدگی اور اس کی کثرت منزل کو بے نشان کردیتی ہے ۔ آپ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور زندگی کے زندہ تجربات میں شرکت کیجئے ۔
पाटी پاٹی
سنسکرت
پٹی (چار پائی وغیرہ کی) .
पाती پاتی
۱. خط ، پتر ، چٹھی .
पति پَتی
شوہر، خاوند
पत्ती پَتّی
چھوٹا پتّا، کون٘پل، پن٘کھڑی
کلمات طیبات
خطوط
قاضی ثناءالله پانی پتی اور تفسیر مظہری کا تعارف
رضوان الدین خان
اسلامیات
سفر نامہ حج
سفر نامہ
حقوق الاسلام
حزب البحر با ترجمہ اردو
ما لابد منہ
ستیارتھ پرکاش
دیگر
پھول کی پتّی ہیرے کا جگر
ہیلن فیرس
ناول
تذکرۂ حالی
سوانح حیات
تحفة السالکین
تاریخ اشاعت اسلام
تاریخ تبلیغ اسلام در ہندوستان
تاریخ اسلام
وصیت نامہ
تفسیر مظہری
آنکھ مانوس تماشا نہیں ہونے پاتیکیسی صورت ہے کہ ہر روز نئی لگتی ہے
کتاب باب غزل شعر بیت لفظ حروفخفیف رقص سے دل پر ابھارے مست پری
پھول کی پتی پتی خاک پہ بکھری ہےرنگ اڑا اڑتے اڑتے افلاک ہوا
یہ کس کی پٹی ہےنقاد بھائی کی
جب کبھی پھولوں نے خوشبو کی تجارت کی ہےپتی پتی نے ہواؤں سے شکایت کی ہے
اسے گلاب کی پتی نے قتل کر ڈالاوہ سب کی راہوں میں کانٹے بہت بچھاتا تھا
عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کرزندگی کو ڈھونڈنے میں زندگی برباد کی
مٹی کی تہوں کو چھیڑیں گیمیں پتی پتی کلی کلی
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتیدھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
پڑا رہنے دو اپنے بوریے پر ہم فقیروں کوپھٹی رہ جائیں گی آنکھیں جو مٹھی کھول دی ہم نے
کوئی کنگھی نہ ملی جس سے سلجھ پاتی وہزندگی الجھی رہی برمہا کے درشن کی طرح
آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہےیہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے
ناز بردار لب ہے جاں جب سےتیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہےنئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے
لوگ کہتے تھے کہ نتھو کا سر اس لیے گنجا ہوا ہے کہ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ اس بیان میں کافی صداقت ہےکیونکہ سوچتے وقت نتھو سر کھجلایا کرتا ہے۔ چونکہ اس کے بال بہت کھردرے اور خشک ہیں اور تیل نہ ملنے کے باعث بہت خستہ ہو...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books