aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phir..."
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی
1949 - 2009
شاعر
ظہیر کاشمیری
1919 - 1994
فکر تونسوی
1918 - 1987
مصنف
پیر شیر محمد عاجز
پیر مہر علی شاہ
پیر اکرم
born.1930
الطاف الرحمن فکر یزدانی
died.1964
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن، نئی دہلی
ناشر
مولوی محمد حسین
1856 - 1928
پیر بخش طیب سلیم
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
حضرت پیر محمد شاہ لائبریری، احمدآباد
ڈاکٹر پیر محمد رحمانی
بمحمود پریس فی المدرسۃ النظامیہ ببلدۃ حیدرآباد
ادارہ حلقۂ فکرودانش، کراچی
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
نہیں دنیا کو جب پروا ہماریتو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اہم ترقی پسند شاعر، ان کی کچھ غزلیں ’ بازار‘ اور ’ گمن‘ جیسی فلموں کے سبب مقبول
फिरپِھر
مزید برآن ، اس کے علاوہ .
फिर केپِھر کے
again
फ़िक्रفِکْر
عربی
اندیشہ، تردد، دغدغہ، الجھن
फिर सेپِھر سے
ہندی
دوبارہ، از سر نو، نئے سر سے
پھر میں ہدایت پاگیا
سید محمد تیجانی سماوی
خودنوشت
فسانے منٹو کے اور پھر بیاں اپنا
خالد اشرف
افسانہ تنقید
پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا
کلیم عاجز
مجموعہ
اور پھر بیاں اپنا
اخلاق احمد دہلوی
آرٹیکل کلیکشن
دھوپ پھر نکل آئی
حسیب سوز
پھر سحر نہ ہوئی
مونی گوپال تپش
غزل
بہاریں پھر بھی آتی ہیں
عطیہ پروین بلگرامی
ناول
ذرا پھر سے کہنا
امجد اسلام امجد
پھر بہار آئی
اے۔ حمید
آج کی شب پھر سناٹا
ذکاء صدیقی
کلیات
پھر یوں ہوا
پھر سے جینا ہوگا
اشرف رفیع
پھر ایک کارواں لٹا
نعیم صدیقی
شاہجہاں شاد
پھر نظر میں پھول مہکے
مرزا ظفر الحسن
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
پھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سےجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books