aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qamar"
قمر جلالوی
1887 - 1968
شاعر
عباس قمر
born.1994
قمر جلال آبادی
1917 - 2003
قمر مرادآبادی
1910 - 1987
طارق قمر
born.1975
قمر عباس قمر
born.1993
قمر جمیل
1927 - 2000
ریحانہ قمر
born.1962
قمر بدایونی
1876 - 1941
دشینت کمار
1933 - 1975
کمار وشواس
born.1970
قمر رضا شہزاد
born.1958
قمر اقبال
1944 - 1988
شیو کمار بٹالوی
1937 - 1973
قمر رئیس
1932 - 2009
مصنف
سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میںپلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھےپر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
یہ پانی ہوا اور یہ شمس و قمریہ موج رواں یہ کنارہ بھنور
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالمرسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
جب ستارے ہی نہیں مل پائےلے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے
کمر کلاسیکی شاعری میں ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ شاعری کے اس حصے کو پڑھ کر آپ شاعروں کے تخیل کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ معشوق کی کمر کی خوبصورتی ، باریکی یا یہ کہا جائے کہ اس کی معدومی کو شاعروں نے حیرت انگیز طریقوں سے برتا ہے ۔ ہم اس موضوع پر کچھ اچھے اشعار کا انتخاب پیش کر رہے ہیں آپ اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔
क़मरقَمَر
عربی
چاند، ماہ، مہ، چندر (تیسری رات کے بعد 'چاند' پہلی اور دوسری کے چاند کو 'ہلال' کہا جاتا ہے)
कमरکَمَرْ
فارسی
جسم میں پیٹھ کا نچلا اور کھولے کے اوپر کا حصّہ
समरثَمَر
پھل، میوہ
समरسَمَر
سنسکرت, عربی
شام کی گفتگو، رات کی گفتگو یا بات چیت
طلسم ہوشربا
منشی احمد حسین قمر
داستان
اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب
فکشن تنقید
اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت اور ہم عصر رجحانات: ایک جائزہ
طنز و مزاح تاریخ و تنقید
بقیہ طلسم ہوش ربا
بہادر علی
قمر علی عباسی
ناول
رشک قمر
مجموعہ
پریم چند کا تنقیدی مطالعہ
ناول تنقید
غم جاوداں
طلسم ہوش ربا
امیر علی ٹھگ
منجو قمر
تاریخی
ترجمہ کا فن اور روایت
پریم چند فکر و فن
تنقید
رونا علاج ظلمت دنیا نہیں تو کیاکم از کم احتجاج خدائی ہے روئیے
قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائیچلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیںہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں
میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیابرق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا
ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کی
قمرؔ میں ہوں مختار تنظیم شب کاہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے
کب تک قمرؔ ہو شام کے وعدے کا انتظارسورج چھپا چراغ جلے رات ہو گئی
یہ پانچ کرتے ہیں دیکھو یہ پانچ پاجامےڈلے ہوئے ہیں کمر بند ان میں اور دیکھو
قرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دلگر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذل
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books