غزل 27

اشعار 20

ابھی باقی ہے بچھڑنا اس سے

نا مکمل یہ کہانی ہے ابھی

ذہن پر بوجھ رہا، دل بھی پریشان ہوا

ان بڑے لوگوں سے مل کر بڑا نقصان ہوا

اس سلیقے سے مجھے قتل کیا ہے اس نے

اب بھی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ زندہ ہوں میں

کوئی شکوہ نہ شکایت نہ وضاحت کوئی

میز سے بس مری تصویر ہٹا دی اس نے

ہر آدمی وہاں مصروف قہقہوں میں تھا

یہ آنسوؤں کی کہانی کسے سناتے ہم

کتاب 2

گنگا جمنا کے ساحلوں پر ڈاکٹر طارق قمر

 

2017

شجر سے لپٹی ہوئی بیل

 

2009

 

تصویری شاعری 3

کیسے رشتوں کو سمیٹیں یہ بکھرتے ہوئے لوگ ٹوٹ جاتے ہیں یہی فیصلہ کرتے ہوئے لوگ غور سے دیکھو ہمیں، دیکھ کے عبرت ہوگی ایسے ہوتے ہیں بلندی سے اترتے ہوئے لوگ اے خدا معرکۂ_لشکر_شب باقی ہے اور مرے ساتھ ہیں پرچھائیں سے ڈرتے ہوئے لوگ مر کے دیکھیں_گے کبھی ہم بھی، سنا ہے ہم نے مسکراتے ہیں تری راہ میں مرتے ہوئے لوگ قید_خانوں کے اندھیروں میں بڑے چین سے ہیں اپنے اندر کے اجالوں سے گزرتے ہوئے لوگ کتنے چہروں پہ سر_بزم کریں_گے تنقید آئنہ دیکھ کے تنہائی میں ڈرتے ہوئے لوگ خودکشی کرنے پہ آمادہ و مجبور ہیں اب زندگی! یہ ہیں ترے عشق میں مرتے ہوئے لوگ تم تو بے_وجہ پریشان ہوئے ہو طارقؔ یوں_ہی پیش آتے ہیں وعدوں سے مکرتے ہوئے لوگ

 

مزید دیکھیے

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • میر حسن میر حسن
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • میر انیس میر انیس
  • منور رانا منور رانا
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب