aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rafjii"
محمد رفیع سودا
1713 - 1781
شاعر
راہی معصوم رضا
1927 - 1992
مصنف
دواکر راہی
1914 - 1968
سعید راہی
عادل راہی
born.1993
احمد راہی
1923 - 2002
غلام مرتضی راہی
born.1937
رفیع رضا
born.1962
رفیق سندیلوی
born.1961
رمزی آثم
born.1975
جمنا پرشاد راہیؔ
رفیعہ شبنم عابدی
born.1943
رشمی بھاردواج
born.1983
راکیش راہی
born.1969
مصطفیٰ راہی
1931 - 1986
دیکھو اپنی ووٹ رکھنی مانگٹا ہے ہم فریکس کو دے گا پہلے بٹلانے نہیں سکٹا کوئی
میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بنسانس جو چل رہی ہے آری ہے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
रफ़्ज़ी رَفْضی
heretic
लफ़्ज़ी لَفْظی
لفظ سے متعلق، لفظ کا، لغوی، اصلی، حقیقی
عربی
रफ़ी' رَفِیع
بلند، اونچا
राफ़िज़ी رافِضی
اُس گروہ کا فرد جس نے زیدِ شہید ابنِ امام زِین العابدین کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر اُن کا ساتھ چھوڑ دیا.
شب رفتہ
مجید امجد
اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء
رفیعہ سلطانہ
نثر
قصائد سودا
قصیدہ
کلیات سودا
کلیات
دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی
ونود کمار شکل
ناول
مرزا محمد رفیع سودا
پروفیسر نذیر احمد
شاعری تنقید
اردو ادب کی ترقی میں خواتین کا حصہ
تنقید
عورت ذات
ملا رموزی
آداب شاعری
عالی رفاعی حیدرآبادی
خلیق انجم
رفیق روزگار
نور محمد چوہان
دیگر
عمر رفتہ
نقی محمد خان خورجوی
ہم نفسان رفتہ
رشید احمد صدیقی
خاکے/ قلمی چہرے
آتش رفتہ کا سراغ
مشرف عالم ذوقی
قاضی افضال حسین
مونوگراف
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیںچیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
بہت نزدیک آتی جا رہی ہوبچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نےدہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میںوقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیںگزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاںزندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھمجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہےمجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیںکیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books