غزل 11

اشعار 8

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے

پہلے ہم لوگ محبت سے ملا کرتے تھے

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

تمہارے ساتھ کئی رنج بانٹنے ہیں ہمیں

سو ایک دن کے لیے زندگی سے فرصت لو

  • شیئر کیجیے

یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میں

یعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے

مری جگہ پہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے

میں اپنے آپ سے اتنے سوال کرتا ہوں

تصویری شاعری 3

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے پہلے ہم لوگ محبت سے ملا کرتے تھے روز ہی سائے بلاتے تھے ہمیں اپنی طرف روز ہم دھوپ کی شدت سے ملا کرتے تھے صرف رستہ ہی نہیں دیکھ کے خوش ہوتا تھا در_و_دیوار بھی حسرت سے ملا کرتے تھے اب تو ملنے کے لیے وقت نہیں ملتا ہے ورنہ ہم کتنی سہولت سے ملا کرتے تھے

 

آڈیو 10

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم

دشت کی پیاس کسی طور بجھائی جاتی

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے_گا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"ملتان" کے مزید شعرا

  • محسن نقوی محسن نقوی
  • شوکت واسطی شوکت واسطی
  • غلام حسین ساجد غلام حسین ساجد
  • قمر رضا شہزاد قمر رضا شہزاد
  • آنس معین آنس معین
  • اسلم انصاری اسلم انصاری
  • ضیاء المصطفیٰ ترک ضیاء المصطفیٰ ترک
  • وقار خان وقار خان
  • حنا عنبرین حنا عنبرین
  • اطہر ناسک اطہر ناسک