رمزی آثم کے اشعار

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے

پہلے ہم لوگ محبت سے ملا کرتے تھے

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

تمہارے ساتھ کئی رنج بانٹنے ہیں ہمیں

سو ایک دن کے لیے زندگی سے فرصت لو

یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میں

یعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے

مری جگہ پہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے

میں اپنے آپ سے اتنے سوال کرتا ہوں

کھینچ لائی ہے ترے دشت کی وحشت ورنہ

کتنے دریا ہی مری پیاس بجھانے آتے

دشت کی پیاس کسی طور بجھائی جاتی

کوئی تصویر ہی پانی کی دکھائی جاتی

یا انہیں آتی نہیں بزم سخن آرائی

یا ہمیں بزم کے آداب نہیں آتے ہیں