aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rahii"
کسی جانب سے چلے راہیؔ ہوائے نمناکچارہ گر ذکر تنک آبیٔ دریا نہ سنا
راہی معصوم رضا
1927 - 1992
مصنف
دواکر راہی
1914 - 1968
شاعر
سعید راہی
عادل راہی
born.1993
احمد راہی
1923 - 2002
غلام مرتضی راہی
born.1937
جمنا پرشاد راہیؔ
پریم چند
1880 - 1936
محمد رفیع سودا
1713 - 1781
راکیش راہی
born.1969
مصطفیٰ راہی
1931 - 1986
راہی فدائی
born.1949
راہی شہابی
1934 - 2005
امت جھا راہی
born.1989
محبوب راہی
born.1939
میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بنسانس جو چل رہی ہے آری ہے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
شاعر،ادیب ،صحافی،نغمہ نگار، غلام بیگم بادشاہ اور جھانسی کی رانی جیسی فلموں کے مکالمہ نگار
रही رَہی
راہی
فارسی
राही راہی
مسافر، راہ گیر
रहो رہو
stay, remain, stop, be, continue to live
रहा رہا
رہنا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل
ہندی
آدھا گاؤں
تاریخی
جان غزل
بال سوروپ راہی
آسان کراٹے
اظہر حسین راہی
تعلیم
ہپناٹزم کے عملی طریقے
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
محمد بدیع الزماں
جو رہی سو بے خبری رہی
ادا جعفری
خود نوشت
خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی
شعیب راہی
تحقیق
نورالدین زنگی
اسلم راہی
اجنبی شہر اجنبی راستے
مجموعہ
میں ساز ڈھونڈتی رہی
شاعری
اندھیروں کے ساربان
پھول کے آنسو
عظیم راہی
افسانہ
تین راہی
میکسم گورکی
ناول
خاموشی لب کھول رہی ہے
اشہد کریم الفت
ہیلن آف ٹرائے
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماںیاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیںچیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
بہت نزدیک آتی جا رہی ہوبچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیںگزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاںزندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھمجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہےمجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
یاد کے بے نشاں جزیروں سےتیری آواز آ رہی ہے ابھی
کیا کہا عشق جاودانی ہے!آخری بار مل رہی ہو کیا
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books