aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rozii"
رضی اختر شوق
1933 - 1999
شاعر
خواجہ رضی حیدر
born.1946
رضی رضی الدین
born.1953
رضوانہ سعید روز
رضی ترمذی
1926 - 2013
علی رضا رضی
born.1988
خلیل راضی
1918 - 2003
رضی حیدر گیلانی
رضی بدایونی
1878 - 1939
مصنف
رضی عابدی
تحسین روزی
احمد رضی بچھرایونی
محمد ولی رازی
رضی شہاب
رازی ابوذر
born.1987
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافرروزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے
اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیںان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
रोज़ी روزی
فارسی
روز کی خوراک، رِزق
रोती روتی
روتا کی تانیث، مرکبات میں مستعمل
रोनी رونی
روتی ہوئی، غم زدہ، اشکبار
रोटी روٹی
سنسکرت
کسی اناج کے گندھے ہوئے آٹے کی چھوٹی بڑی موٹی یا پتلی اور عام طور پر گول اور چپٹی شکل کی توے پر یا تندور میں پکّی ہوئی بڑی ٹکیہ، جس کے ٹکڑے کسی سالن یا لگاون کے ساتھ روزمرہ کی غذا کے طو رپر کھاتے ہیں، چپاتی، نان
روزی کا سوال
واجدہ تبسم
معاشرتی
لغات روز مرہ
شمس الرحمن فاروقی
لغات و فرہنگ
کتاب المنصوری
ابوبکر محمد بن زکریا رازی
طب یونانی
کتاب المرشد
طب
زنداں کے شب و روز
زینب الغزالی
سوانح حیات
سلسلہ روز و شب
صالحہ عابد حسین
خود نوشت
ارض مقدس میں چند روز
اے۔ امیرالنساء
سفر نامہ
روز بروز
انور مسعود
شاعری
ہادیٔ عالم
گورکی کی آپ بیتی (روٹی کی تلاش)
میکسم گورکی
خودنوشت
گاندھی جی اور مسلمان
رضی احمد
سیاسی
میرے گزشتہ روز وشب
جگن ناتھ آزاد
مشرف عالم ذوقی
ناول تنقید
کتاب الحاوی ( کان، ناک، دانت اور حلق کے امراض)
صحت عامہ
فرائیڈ کا نظریہ جنس
شیر محمد اختر
جنسیات
چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دئیےروزی رساں سے ہم نے گلہ کچھ نہیں کیا
نوع انساں کے شب و روز کی تقدیر نہیںیہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیں
ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے اور ہم اس ذریعے سے روزی کما کر رہیں گے۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے بال بچے فاقے مریں اور جن اخباروں اور رسالوں میں ہمارے مضامین چھپتے ہیں، ان کے مالک خوشحال رہیں۔...
پرندوں کو بھی انساں کی طرح ہے فکر روزی کیسحر ہوتے ہی اپنا آشیانہ چھوڑ دیتے ہیں
وہ واسطہ جس کو فاقوں روزے روزے بے بیچارہ کیا رکھےدن دیکھ چکا شب دیکھ چکا قسمت کا سہارا کیا رکھے
وہی امیر جو روزی رساں ہے عالم کافقیر بن کے کبھی بھیک مانگتا بھی ہے
ہاں یہ بھی یاد ہے مجھ کو کہ میںروٹی روزی کی تمنا میں
کس کی ہولی جشن نو روزی ہے آجسرخ مے سے ساقیا دستار رنگ
زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئیہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی
روزی مل جائے مال و دولت نہ سہیراحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی
کھانے کو زخم ملتے ہیں پینے کو اشک ہیںروزی جہاں ہیں کیا مری تقدیر کی نہیں
صفائے دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میںچراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ
ریل کی پٹری پر میری شہرت رکھ دیبس کے پہیوں سے روزی روٹی باندھی
نمازاں کروں رات دن ملنے کیاں میںہوا منج کوں روزی ذو الحمدللہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books