غزل 11

اشعار 14

نشۂ یار کا نشہ مت پوچھ

ایسی مستی کہاں شرابوں میں

تمام رات ترا انتظار ہوتا رہا

یہ ایک کام یہی کاروبار ہوتا رہا

  • شیئر کیجیے

اس اندھیرے میں جلتے چاند چراغ

رکھتے کس کس کا وہ بھرم ہوں گے

جگہ بچی ہی نہیں دل پہ چوٹ کھانے کی

اٹھا لو کاش یہ عادت جو آزمانے کی

  • شیئر کیجیے

یہ زلف یار بھی کیا بجلیوں کا جھرمٹ ہے

خدایا خیر ہو اب میرے آشیانے کی

  • شیئر کیجیے

مزید دیکھیے