رضی رضی الدین کے اشعار

614
Favorite

باعتبار

اس کا جلوہ دکھائی دیتا ہے

سارے چہروں پہ سب کتابوں میں

نشۂ یار کا نشہ مت پوچھ

ایسی مستی کہاں شرابوں میں

تمام رات ترا انتظار ہوتا رہا

یہ ایک کام یہی کاروبار ہوتا رہا

اس اندھیرے میں جلتے چاند چراغ

رکھتے کس کس کا وہ بھرم ہوں گے

یہ زلف یار بھی کیا بجلیوں کا جھرمٹ ہے

خدایا خیر ہو اب میرے آشیانے کی

جگہ بچی ہی نہیں دل پہ چوٹ کھانے کی

اٹھا لو کاش یہ عادت جو آزمانے کی

دل کو جلائے رکھا ہے ہم نے چراغ سا

اس گھر میں ہم ہیں اور ترا انتظار ہے

تم نہ تھے تو یہاں پہ کوئی نہ تھا

آج کتنے دوانے بیٹھے ہیں

دشمن جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتل

تو بھی اس بھیڑ میں کچھ دیر ٹھہر جا اے دل

قلب و جگر کے داغ فروزاں کئے ہوئے

ہیں ہم بھی اہتمام بہاراں کئے ہوئے

تمہارے شہر میں کیوں آج ہو کا عالم ہے

صبا ادھر سے گزر کر ادھر گئی کہ نہیں

چھلکا پڑا ہے چہروں سے اک وحشت جنوں

پھیلا پڑا ہے عشق کا بازار خیر ہو

دیوانۂ خرد ہو کہ مجنون عشق ہو

رہنا ہے اس کو چاک گریباں کئے ہوئے

چشمۂ ناب نہ بڑھ کر جنوں سیلاب بنے

بہہ نہ جائے کہ یہ مٹی کا مکاں ہے اب کے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے