aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saar"
علامہ اقبال
1877 - 1938
شاعر
سر سید احمد خاں
1817 - 1898
مصنف
سارا شگفتہ
1954 - 1984
عبد الاحد ساز
1950 - 2020
مہاراج سرکشن پرشاد شاد
1864 - 1940
سددھارتھ ساز
born.1996
سدھارتھ سینی ساد
born.2000
ارشد سعد ردولوی
شنکر لال شنکر
ابوالبقاء صبر سہارنپوری
سارہ سلام
born.2005
سروجیت سرو
سارہ خان
born.1983
بارتھو لو میوگارڈنر صبرؔ
افتخار شاھد ابو سعد
born.1960
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نےتو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغازکبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیںپس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو
باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاقتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
نئے سال کے موقے پر ہم آپکے ساتھ چنندہ نظمیں ساجھا کر رہے ہیں۔
सर'صَرْع
عربی
مرگی کا مرض
सरسَر
پراکرت, فارسی
جسم کا سب سے بالائی حصہ، کھوپڑی نیز گردن سے اوپر کا پورا حصہ
साईسائی
سنسکرت, ہندی
ساہی، سیہی، سیہ
साثا
(تصوف) ’ ثا ‘ ثواب دارین یا وہ ازلی لطف و احسان جو حق سبحانہ تعالی کی طرف سے ہو
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
کئی چاند تھے سرے آسماں
شمس الرحمن فاروقی
ناول
سر رشتۂ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد
مصطفیٰ علی خاں فاطمی
تنقید
سرزمین مصر میں جنگ
یوسف القعید
سچل سر مست
صدیق طاہر
مجموعہ
سر و ساماں
اختر الایمان
ترجمہ
سر وادیٔ سینا
فیض احمد فیض
زنگ سار
عقیل ملک
غزل
کئی چاند تھے سر آسماں ایک تجزیاتی مطالعہ
سر عام
ظفر اقبال
شاعری
سرکٹی لاش
نامعلوم مصنف
ہارر فکشن
ایک مردہ سر کی حکایت
ساجد رشید
چراغاں سرخواب
موت کا سر
ایڈگر ایلن پو
افسانہ
تشریح سر معرفت
منشی کنہیا لال سرور
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہےالزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفاوہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اور اہل حکم کے سر اوپرجب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتاحیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیاآج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books