aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sairaab"
سارا شگفتہ
1954 - 1984
شاعر
اجے سحاب
born.1969
مریم ناز
born.1988
سحاب قزلباش
1944 - 2004
سائرہ اقبال
born.1991
لئیق اکبر سحاب
سارہ سلام
born.2005
سید شاداب اصغر
born.1998
ساحرہ بیگم
مصنف
ساغر صاحب بدایونی
born.1990
شیو دیال سحاب
احمر سحاب
خان صاحب خواجہ خان
دکتر یداللہ ثمرہ
نورالعین ساحرہ
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےکس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے
دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیرابزندگی آگ بھی ہے پانی بھی
رکھنا ہے تشنہ کام تو ساقی بس اک نظرسیراب کر نہ دے مری تشنہ لبی مجھے
سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرفایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرف
بلا سے ہو اگر سارا جہاں ان کی حمایت پرخدائے ہر دو عالم کی حمایت ہم بھی رکھتے ہیں
سراب شاعری
सैराब سَیراب
فیضیاب، بافیض
فارسی
सराब سَراب
وہ ریت یا تار کول جس پر دھوپ میں دور سے پانی کا دھوکا ہوتا ہے
عربی
सैलाब سَیلاب
پانی کا تیز بہاؤ، پانی کا طوفان، طغیانی، دریا کا چڑھاؤ، پانی کا ریلا
सैरा سَیرا
چلنا پھرنا ، روانگی ، رفتار ، چال ، حرکت ، گردش .
سیراب باغ
میر امجد علی
زبان
انتخاب سب رس
ملا وجہی
داستان
خواب سراب
مبارک صدیقی
مجموعہ
نگارستان
منصف خان سحاب
سیر المنازل
مرزا سنگین بیگ
تاریخ
النجمۃ السائرہ
سید سبط حسن
لسانیات
محمد اسد بندۂ صحرائی
محمد اسد
خود نوشت
اردو ادب میں خاکہ نگاری
صابرہ سعید
تحقیق
سب رس پر ایک نظر
سہیل بخاری
تنقید
تکملہ سیر الاولیا
خواجہ گل محمد احمد پوری
تہذیبی وثقافتی تاریخ
محفل اولیاء
علامہ شاہ مراد سہروردی
تذکرہ
سب رس کا تنقیدی جائزہ
منظر اعظمی
حالات قطب دکن حضرت سید حسن عرف برہنہ شاہ صاحب
محمد علی خاں
شمارہ نمبر-001،002
محی الدین قادری زور
Jan, Feb 1962سب رس، حیدرآباد
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہمخون میں اپنے نہانے کے لئے نکلے ہیں
میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤںاے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے
آ کر کبھی تو دید سے سیراب کر مجھےمرتی نہیں ہے پیاس کہ زندہ ہوں میں ابھی
سرابوں سے مجھے سیراب کر دےنشے میں تشنگی کے چور ہو جاؤں
مگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہے
ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔسیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں
کبھی سیراب کر جاتا ہے ہم کو ابر کا منظرکبھی ساون برس کر بھی پیاسا چھوڑ دیتے ہیں
شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیاہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا
ایک ہی عشق میں دونوں کا جنوں ضم ہوگاپیاس یکساں ہے تو سیراب اکٹھے ہوں گے
تری دید سے آنکھیں جی بھر کے سیراب ہوئیںکس روز ہوا تھا ایسا بات یہ کب کی ہے
مجھے تو کر دیا سیراب ساقی نے مرے لیکنمری سیرابیوں کی تشنہ سامانی نہیں جاتی
سیراب ہو کے شاد نہ ہوں رہروان شوقرستے میں تشنگی کا سمندر بھی آئے گا
ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیںہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں
کس منہ سے کہیں تجھ سے سمندر کے ہیں حق دارسیراب سرابوں سے بھی ہم ہو گئے ہوتے
کوئی دریا ہو کہیں جو مجھے سیراب کرےایک حسرت ہے جو پوری نہیں ہونے والی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books