aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarf-e-khidmat-e-shaahaa.n"
مرکز تحقیقات و خدمات علمیہ، مؤ
ناشر
مکتبۂ خدمت، دہلی
خدمت خلق آرگنائزیشن، شولاپور
کمیٹی اعتراف خدمات مغنی تبسم، حیدرآباد
مکتبہ شہاب دیوبند
فرزندان شاداں اندوری
مکتبۂ شہر یار، کراچی
کھیمن یو۔ ملانی
مترجم
مکبتۂ حسن وشباب، دہلی
شری ڈبلو۔ اے۔ شہانی فار دی اسکول اینڈ کالج بک اسٹال، بمبئی
خانقاہ شریف متصل مسجد شیخ سرور شہر، باندہ
شان حیدر بیباک امروہوی
مصنف
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
شان زہرہ
مدیر
مکتبۂ شرف ، نالندہ
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ صرف خدمت شاہاں کہ خوں بہا دیتے
ہم کو خیال خدمت اہل جہاں تو ہےطاقت نہیں ہے پاؤں میں منہ میں زباں تو ہے
کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائےنہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
اے رہنمائے ہند اے خدمت گزار قومنقش قدم ترے ہیں زمانے میں یادگار
ہر چیز کی گرانی نے ویران کر دیاصرف خزاں ہے ہند کا گل زار آج کل
قسمت ایک مذہبی تصور ہے جس کے مطابق انسان اپنے ہرعمل میں پابند ہے ۔ وہ وہی کرتا ہے جو خدا نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے اور اس کی زندگی کی ساری شکلیں اسی لکھے ہوئے کے مطابق ظہور پزیر ہوتی ہیں ۔ شاعری میں قسمت کے موضوع پر بہت سی باریک اور فلسفیانہ باتیں بھی کی گئی ہیں اور قسمت کا موضوع خالص عشق کے باب میں بھی برتا گیا ہے ۔ اس صورت میں عاشق اپنی قسمت کے برے ہونے پر آنسو بہاتا ہے ۔
منتخب اشعار از ہزار داستان عشق - سنجیو صراف کا مرتبہ مترجمہ خوبصورت اردو اشعار کا مجموعہ سلیس انگریزی ترجمے کے ساتھ
فضائل اخلاق و خدمت خلق
محسن عثمانی ندوی
نحو فارسی و ترکیب الاشعار
نامعلوم مصنف
زبان
صرف میر
اردو صرف و نحو
مولانا عبد الحق
رسالہ قواعد صرف و نحو اردو
ابواب الصرف جدید
محمد عبد الاحد
لسانیات
نسخۂ صرف میر
حاجی محمد سعید
میر سید شریف
فارسی صرف و نحو
راجہ شیو پرشاد
عزیزالمبتدی
خواجہ محمد عزیزاللہ غوری
ترجمہ
فلسفۂ صرف و نحو
احسن مرزا شرر
صرف و نحو
محمد خوانساری
علم عروض / عروض
ولا اکیڈمی
ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد
مولانا عبدالماجد حیات وخدمات
جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئیمنظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا
بہ پیش خدمت چشم سراب آلودہہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے
اظہار احتجاج پہ یہ کالی پٹیاںتسکین ذوق خدمت اسلام ہو گئی
خیال خدمت خلق خدا دیا تو نےمجھے حیات کا مقصد بتا دیا تو نے
خیال خدمت خلق خدا جو رکھتے ہیںکرم خدا کا انہیں دستیاب ہوتا ہے
لہو جگر کا ہوا صرف رنگ دست حناجو سودا سر میں تھا صحرا کھنگالنے میں گیا
آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئیپہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو
میر مشتاقؔ کی مردانہ روی یاد آئیخدمت خلق کا اک عزم جواں یاد آیا
رکھ دیا مجھ پہ فرض خدمت خلقجب کوئی مجھ سا دوسرا نہ ہوا
ناطقؔ جنون خدمت احباب کس لیےدیکھیں تو کیا ملا ہے تجھے پھل اٹھا تو لا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books