قسمت پر شاعری

قسمت ایک مذہبی تصور ہے جس کے مطابق انسان اپنے ہرعمل میں پابند ہے ۔ وہ وہی کرتا ہے جو خدا نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے اور اس کی زندگی کی ساری شکلیں اسی لکھے ہوئے کے مطابق ظہور پزیر ہوتی ہیں ۔ شاعری میں قسمت کے موضوع پر بہت سی باریک اور فلسفیانہ باتیں بھی کی گئی ہیں اور قسمت کا موضوع خالص عشق کے باب میں بھی برتا گیا ہے ۔ اس صورت میں عاشق اپنی قسمت کے برے ہونے پر آنسو بہاتا ہے ۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

مرزا غالب

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز

کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں

مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں

اختر سعید خان

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر

وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

سجاد باقر رضوی

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

بہادر شاہ ظفر

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

ظفر اقبال

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں الجھا

مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے

بشیر بدر

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

جلیل مانک پوری

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

your love by any means I could not gain

Or else in life what would not one attain

your love by any means I could not gain

Or else in life what would not one attain

مومن خاں مومن

کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی

جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے

فراق گورکھپوری

کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے

قصری کانپوری

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

---

---

---

---

بہادر شاہ ظفر

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

مرزا غالب

میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر

مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے

اکبر الہ آبادی

زور قسمت پہ چل نہیں سکتا

خامشی اختیار کرتا ہوں

عزیز حیدرآبادی

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا

اطہر نفیس

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

قائم چاندپوری

جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے

جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

امام بخش ناسخ

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے

سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

whether or not accepted, it is up to fate

at her doorstep on and on, I myself prostrate

whether or not accepted, it is up to fate

at her doorstep on and on, I myself prostrate

جوشؔ ملسیانی

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر

عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیں

مقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا

عبد الحمید عدم

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی

خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں

کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بنا کرتی ہیں تقدیریں

نامعلوم

تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتی

بگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی

داغؔ دہلوی

سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں

نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے

امیر قزلباش

ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا

بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

That I would get a goblet it was'nt my fate

now even the whiff of wine does'nt permeate

That I would get a goblet it was'nt my fate

now even the whiff of wine does'nt permeate

مضطر خیرآبادی

کب ہنسا تھا جو یہ کہتے ہو کہ رونا ہوگا

ہو رہے گا مری قسمت میں جو ہونا ہوگا

نامعلوم

خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب

بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی

رسا جالندھری

دولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو

قارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیر

چپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میں

لالہ مادھو رام جوہر

کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے

کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں

فرید پربتی

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

حسرتؔ موہانی

بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ

یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

منور خان غافل

نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

محسنؔ بھوپالی

پھول کھلے ہیں گلشن گلشن

لیکن اپنا اپنا دامن

جگر مراد آبادی

اپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی

اپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے

جلیل مانک پوری

لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل

شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا

آغا حجو شرف

عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں

داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

بقا اللہ بقاؔ

ہمیشہ تنکے ہی چنتے گزر گئی اپنی

مگر چمن میں کہیں آشیاں بنا نہ سکے

عزیز لکھنوی

جو چل پڑے تھے عزم سفر لے کے تھک گئے

جو لڑکھڑا رہے تھے وہ منزل پہ آئے ہیں

حیرت سہروردی

اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئی

ٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا

عزیز لکھنوی

یار پر الزام کیسا اے دل خانہ خراب

جو کیا تجھ سے تری قسمت نے اس نے کیا کیا

لالہ مادھو رام جوہر

اسی کو دشت خزاں نے کیا بہت پامال

جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا

جنید حزیں لاری

میری قسمت ہے یہ آوارہ خرامی ساجدؔ

دشت کو راہ نکلتی ہے نہ گھر آتا ہے

غلام حسین ساجد

میں جاں بلب ہوں اے تقدیر تیرے ہاتھوں سے

کہ تیرے آگے مری کچھ نہ چل سکی تدبیر

شیخ ظہور الدین حاتم