aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shahna"
شبینہ ادیب
born.1974
شاعر
خالد ندیم شانی
شہاب جعفری
1930 - 2000
شبنم شکیل
1942 - 2013
شبنم رومانی
1928 - 2009
قدرت اللہ شہاب
1917 - 1986
مصنف
مصطفی شہاب
رفیعہ شبنم عابدی
born.1943
شہناز پروین سحر
born.1952
شبانہ یوسف
شہناز نبی
شہناز پروین شازی
born.1956
جعفر ساہنی
1941 - 2018
شبنم کمالی
born.1938
شہناز پروین
born.1947
مہر رخشاں کا نام خسرو روزماہ تاباں کا اسم شحنۂ شام
خوش چشمی آہوؤں کی وہ بھولے جہان میںدیکھے جو آنکھ نرگس شہلائے لکھنؤ
کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہےکس شہر کا شحنہ ہے کس دیس کا والی ہے؟
وہ محتسب ہو کہ شحنہ کہ مفتی و قاضیہمارا کوئی نہیں ہے ہر ایک تیرا ہے
فغان بلبل شیدا نہ جانیے اس کوبجا رہا ہے کوئی صحن باغ میں شحنہ
शहना شَحْنَہ
شہر کا محافظ (حکومت یا حاکم کی طرف سے)، کوتوال
عربی
चाहना چاہْنا
طلب کرنا، مانگنا، درخواست کرنا، خواہش کرنا
ہندی
शहना شَحْنا
نفرت، دشمنی، مجازاً: لوہے کا ہتھیار
शहना شَہْنا
(کاشت کاری) کھیت کے رکھوالے یا چوکیدار کا خطاب، جو دل جوئی اور ہمت افزائی کے لئے ایسے خدمتیوں یا کمیروں کو سفید پوشوں کی طرف سے دیا جاتا ہے، رکھوالا
لسان الحکام
ابو الولید ابن شحنہ
مخطوطات
002
جے بہادر حسرت
Feb 1946شحنۂ شریعت
045
نا معلوم ایڈیٹر
Dec 1907شحنہ ہند
دلی جو ایک شہر تھا
شاہد احمد دہلوی
مقالات/مضامین
اردو غزل کی ماہ تمام پروین شاکر
روبینہ شبنم
شاعری تنقید
ادبی نثر کا ارتقاء
شہناز انجم
نثر
اردو کے نثری اسالیب
شہاب ظفر اعظمی
تنقید
شہاب نامہ
خود نوشت
عصمت چغتائی کی ناول نگاری
شبنم رضوی
ناول تنقید
شہر علم کے دروازے پر
افتخار عارف
انتخاب
مہکتا آنچل
شہناز کنول
رومانی
اردو میں خواتین کی خود نوشت سوانح عمریاں
شبانہ سلیم
تانیثی تنقید
خواتین کی شاعری میں عورتوں کے مسائل کی تصویر کشی
اردو ڈراما آزادی کے بعد
ڈاکٹر شہناز صبیح
تحقیق
پا بہ جولاں ترے کوچے میں بھی کھینچے لائےشحنۂ شہر سے امید کرم ہے ہم کو
جوں شحنۂ معزول پڑی ہے وہ اکارتسیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت
مفتی و شحنہ قاضی ہیں کشتہ اس نگہ کےپھرتے ہوں اس کے ہاتھوں یہ داد خواہ الٹے
مست شراب عشق کو بازار دہر میںزنہار بیم شحنہ نہ پروائے محتسب
دھڑکنیں دھڑکنوں سے جو ملنے لگیںزندگی بڑھ کے دونوں کو شہنا گئی
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناںکوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تکشریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے
شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہےفطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے
یہ بھیگا بھیگا سا موسمیہ تتلی پھول اور شبنم
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چلپھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیںشبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیں
رات کے شانے پر سر رکھےدیکھ رہا ہے سپنا چاند
دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہگر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books