aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sharm"
چراغ شرما
born.1998
شاعر
ارپت شرما ارپت
born.1992
وکاس شرما راز
born.1973
امت شرما میت
born.1989
نقش لائل پوری
1928 - 2017
تری پراری
born.1986
امرتانشو شرما
born.2000
محمود شام
born.1940
عاجز ماتوی
born.1935
وجے شرما
born.1995
اندر سرازی
born.1990
رشبھ شرما
born.2001
اوپندر ناتھ اشک
1910 - 1982
مصنف
سیما شرما میرٹھی
وکرم شرما
born.1994
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
شرم دہشت جھجھک پریشانیناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانیجب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
शर्मشَرْم
فارسی
وہ ندامت جو خلاف مروت بات یا اپنی کسی کوتاہی یا جرم وغیرہ پر محسوس ہو (خصوصاً کسی نگاہوں میں ذلیل ہونے کے خیال سے)، خجالت، غیرت، انفعال
शामشام
سنسکرت, فارسی
كالا
शर्तشَرْط
عربی
بازی جس میں ہار جیت کی قید ہو
गर्मگَرْم
جلدی سے ، عُجلت سے ، شتابی سے.
بڑی شرم کی بات
عصمت چغتائی
کہانیاں/ افسانے
شرم گناہ
ایم۔ اسلم
شرمِ گناہ
شرح بال جبریل
خواجہ حمید یزدانی
شرح
بانگ درا
یوسف سلیم چشتی
بال جبریل
شرح کلام فیض
داؤد کشمیری
ترجمہ و شرح کلیات نفیسی
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
شرح بانگ درا
اسرار خودی
دیوان غالب مع شرح
مرزا غالب
ترجمہ و شرح کلیات قانون ابن سینا
ابو علی سینا
کلیات
دلّی کی شام
احمد علی
ناول
شرح دیوان اردوئے غالب
نظم طبا طبائی
شرح جاوید نامہ
ہے جو ہمارا ایک حساب اس حساب سےآتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں
تمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہو
شرم ہے اپنی بار باری کیبے سبب بار بار تھے ہم تو
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
نگہ شرم کو بے تاب کیا کام کیارنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلومدغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
فقیری میں بھی مجھ کو مانگنے سے شرم آتی ہےسوالی ہو کے مجھ سے ہاتھ پھیلایا نہیں جاتا
ادھر شرم حائل ادھر خوف مانعنہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books