aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shimar"
قتیل شفائی
1919 - 2001
شاعر
اختر شمار
1960 - 2022
حمایت علی شاعر
1926 - 2019
آغا شاعر قزلباش
1871 - 1940
عبدالحلیم شرر
1860 - 1926
مصنف
شاعر جمالی
1943 - 2008
شاعر لکھنوی
1917 - 1989
شفا گوالیاری
1912 - 1968
گنجن ناگر شاعر بکر
born.1984
چندر شیکھر ورما
born.1967
شفا کجگاؤنوی
born.1962
پریم لال شفا دہلوی
1914 - 1982
شرر دہلوی
born.2002
سوربھ شیکھر
کلیم حیدر شرر
ہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا
یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھیہر سمت سے چبھتی ہے انی مجھ کو شمر کی
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
شجر حجر نہیں کہ ہمہمیشہ پا بہ گل رہیں
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "شاعر" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری و تخلیقی جہات کا پتا چلے گا۔
استاد شاعروں کی یہ غزلیں ہر اس شخص کو مہ زبانی یاد ہونگی جنہیں کلاسک اردو شاعری کا شوق ہے - آپ بھی اسکا لطف لیں -
शुमार شُمار
تعداد، عدد
فارسی
शिकार شِکار
(کنایۃً) جو کسی شخص یا چیز سے مغلوب ہو، مطیع
शीमा شِیما
Hero(shima)
शीमा شِیمَہ
प्रकृति, स्वभाव, आदत ।
عربی
دلی جو ایک شہر تھا
شاہد احمد دہلوی
مقالات/مضامین
شمع شبستان رضا
صوفی اقبال احمد نوری
اسلامیات
گذشتہ لکھنؤ
تہذیبی وثقافتی تاریخ
گھنگرو ٹوٹ گئے
خود نوشت
شہر علم کے دروازے پر
افتخار عارف
انتخاب
علی احمد فاطمی
ناول تنقید
عبدالحلیم شرر: شخصیت اور فن
شریف احمد
تحقیق
شلوک شیخ بابا فرید گنج شکر
شیخ فرید
چشتیہ
ولی دکنی
اویس احمد ادیب
شاعری تنقید
بابا فرید گنج شکر
سید افضل حیدر
آئینہ در آئینہ
مثنوی
بابا شیخ فرید الدین گنج شکر
گور بچن سنگھ طالب
ملفوظات
کلام بابا فرید گنج شکر
محمد یونس حسرت
تاریخ یہود
تاریخ
تاریخ بغداد
عالمی تاریخ
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہواہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافلگرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گےابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہطائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفسمدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتییہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کومیں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books