aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tarii"
میر تقی میر
1723 - 1810
شاعر
طارق قمر
born.1975
دانیال طریر
1980 - 2015
گنیش بہاری طرز
1932 - 2008
احمد طارق
born.2002
ذہین شاہ تاجی
1902 - 1978
توقیر تقی
طارق نعیم
born.1958
مرزا محمد تقی ہوسؔ
1766 - 1855
محمود شام
born.1940
طارق عزیز
1936 - 2021
مصنف
عبدالمنان طرزی
یوسف تقی
born.1943
مفتی محمد تقی عثمانی
ذکی طارق
born.1952
بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہے
پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤسکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
وہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہو
شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلےکیسی چپ سی چمن پہ طاری ہے
میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہےان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
شاعری میں اکثر ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں - غزل کے ساتھ یہ معانی کے ساتھ ساتھ احساس کی سطح پر بھی ہے - ان غزلوں کو پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں -
टारीٹاری
سنسکرت
فاصلہ، دوری، تفاوت، وقفہ، انتر
तारीطاری
عربی
چھایا ہوا، پھیلا ہوا، مسلط، غالب
तारीتاری
آتش بازی کی ایک قسم
तरीتَری
فارسی
خشکی کی ضد، نمی، رطوبت، گیلا پن
ارمغان سنسکرت
یوسف ناظم
ہندو ازم
فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ
محمد ریاض
تاریخ
دیوان میر
دیوان
اردوادب کی مختصرترین تاریخ
سلیم اختر
رموز شاعری
تقی عابدی
شاعری تنقید
نکلے تری تلاش میں
مستنصر حسین تارڑ
سفر نامہ
خواجہ احمد فاروقی
मीर : ग़ज़लों के बादशाह
انتخاب
ذکر میر
خود نوشت
امیر حسن نورانی
میر کی آپ بیتی
خودنوشت
فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر
محمد تقی امینی
اسلامیات
کلیات میر
کلیات
سخن میرا اداسی ہے سر شامجو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے
شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلےکیسی چپ سی چمن میں طاری ہے
ہر زخم جگر داور محشر سے ہماراانصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہکہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے
دل پہ طاری ہے اک کمال خوشیشاید اپنے زوال کی ہوگی
کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیںشعر کبھی خود پر بھی طاری کیا کرو
تاریخ کی عبرت طاری ہےان پورنا کے اجڑے مندر پر
طاری ہوا ہے لمحۂ موجود اس طرحکچھ بھی نہ یاد آئے اگر یاد کچھ کروں
بہ شرط فال کسی خال پر میں واروں گاچمن پہاڑ دمن دشت جھیل خشکی تری
اک خوف سا طاری ہے گھروں سے نہیں نکلےترسی ہوئی آنکھوں کو سرابوں کا سفر دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books