aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tausan"
فدویٰ طوقان
1917 - 2003
شاعر
طاؤس
مکتبہ چشتیہ محمودیہ نظامیہ تونسہ شریف
ناشر
معینیہ نظامیہ محمودیہ، تونسہ شریف
تشار پرکاشن، پٹنہ
پھر غزل کی روش پہ چل نکلاتوسن طبع چاہتا تھا لگام
ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
عمر رواں کا توسن چالاک اس لیےتجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
لگا کے پاؤں میں اس کے اڑاؤں قاصد کواگر مجھے ترے توسن کی گرد راہ ملے
توبہ خمریات کی شاعری کا ایک بنیادی لفظ ہے اس کے استعمال سے شاعروں نے نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ توبہ کے موضوع کی خشکی ایک بڑی شوخی میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ شراب پینے والا کردار ناصح کے کہنے پرشراب پینے سے توبہ کرتا ہے لیکن کبھی موسم کی خوشگواری اورکبھی ابلتی ہوئی شراب کی شدت کے سامنے یہ توبہ ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اوران شوخیوں سے لطف لیجئے ۔
तौसन تَوسَن
فارسی
گھوڑا، وہ گھوڑا جو تند و شوخ ہو
तौसना تَوسْنا
پیاسا ہونا.
तौसनी تَوسَنی
سرکشی، تندی و تیزی.
सौसन سَوْسن
(سیف بازی) سیدھی تلوار جو اَنی کے قریب کسی قدر چوڑی ہو، چوڑے پھل کی سیدھی تلوار، سپٹی، پھندا، تیغ
طاؤس چمن کی مینا
نیر مسعود
افسانہ
توبۃ النصوح
ڈپٹی نذیر احمد
اصلاحی و اخلاقی
طاعون
البیرکامیو
ناول
خلاصہ تورات
نظام جاہلیت سے تعاون اسلامی نقطۂ نظر سے
صدرالدین اصلاحی
اسلامیات
تفسیر القرآن (سورہ انفال، توبہ، یونس)
سر سید احمد خاں
رقص طاؤس
سلیم ساغر
رباعی
بہار کی یونیورسٹیوں میں اردو زبان و ادب کی توسیع و ترقی میں اساتذہ کی خدمات
احمد صغیر
زبان و ادب
A Thousand Yearnings
میرین مولٹینو
افسانہ / کہانی
تخت طاؤس
محمد عبداللطیف خان کشتہؔ
تاریخ
سوویت روس اور ترقی پذیر ممالک باہمی تعاون
توبہ
آیت اللہ شیرازی
الدوا والدعا
شاہ محمد منعم
طب
نصیحت نامۂ طاعون
بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔپسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے
توسن عمر رواں دم بھر نہیں رکتا رساؔہر نفس گویا اسی کا تازیانہ ہو گیا
تم آؤ جب سوار تو سن نازقیامت ہم رکاب آئے نہ آئے
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہےتوسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
سخن کا توسن چالاک بے لگام نہیںہمیں ہے پاس روایت سو ہیں نکیل میں ہم
ساتھ اپنے لے کے توسن عمر رواں کو آہہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے
ادھر بھی توسن اقدس کے دو قدم جلوےتمہاری راہ میں مشت غبار ہم بھی ہیں
دیتا نہیں اس ضعف پہ بھی جوش جنوں چینہر ریگ رواں دشت میں توسن ہے ہمارا
کہکشاں صاف بنے گا رستہآپ توسن کو جو چمکائیے گا
قتل پر کس کے آج ہوتی ہےتوسن حسن پر سوار شراب
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابرہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر
نشہ ہی کچھ ایسا تھا فتوحات کا اس پرجذبات کے توسن سے سکندر نہیں اترا
توسن ناز کو پھینکے ہے وہ جس دم سرپٹلوگ کیا کیا نہ تگ و تاز میں مر جاتے ہیں
پھر کبھی مے سے توبہ کر لوں گااب تو بوتل کا کھل گیا ہے کاگ
ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھاتو ہلتے ہی ٹک عناں کے کیا کیا کچلتے صبر و قرار دیکھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books