aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vajuuh"
وجیہ ثانی
born.1979
شاعر
اجمل وجیہ
سید وجیہ الحسن شیرازی
born.2001
سید وجیہ احمد اندرابی
مصنف
وجہہ القمر صدیقی
وجیہ بکس، دہلی
ناشر
سید مظاہر الحسن وجیہہ قادری
فیاض احمد وجیہ
عطیہ کار
سن کے میرا حال ہیں آنکھیں نہ ملنے کے وجوہیہ بھی ہو سکتا ہے شاید اشک بھر لاتے ہو تم
جانتے ہیں وجوہ بغض و عنادکیوں محبت شعار ہیں ہم لوگ
ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیتکہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں
صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو باتمیں اسے شام ہی کو بھول گیا
وجود کے عنوان کے تحت منتخب کئے گئے اشعار انسانی وجود کی اہمیت اور پوری کائنات کے سیاق میں اس کی معنویت کو واضح کرتے ہیں ، ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کی اس اہمیت اور معنویت کے حوالے سے اس کے تقاضے کیا ہیں اور نظام کائنات میں اس کی کارکردگی کی کیا کیا صورتیں ہیں ۔ اس شاعری کا ایک پہلو انسانی وجود کی داخلی دنیا کی سیر بھی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا کیونکہ یہ ایک عمومی سطح پر ہم سب کے وجودی مسائل کا بیانیہ ہے ۔
ابن عربی کا نظریۂ وحدت وجود
محمد عبد السلام خاں
فلسفہ تصوف
وجود
راجیش ریڈی
مجموعہ
کاروان وجود
نثار عزیز بٹ
ناول
غالب اور وحدۃ الوجود
حبیب النساء بیگم
شاعری تنقید
وجہ بیگانگی
ذیشان ساحل
غزل
مسئلہ وحدۃ الوجود اور اقبال
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم
سنگین وجہ
محمد افتخار کھوکھر
ادب اطفال
تلاش وجود
انور سجاد
تنقید
وحدۃ الوجود
عبد العلی انصاری لکھنوی
تذکرۃ الوجیہ
سید حسین پیرعلوی
سوانح حیات
کشف الوجود
سید داول
وحدت الوجود ایک غیر اسلامی نظریہ
الطاف احمد اعظمی
یاد وجیہ
محمد شعائراللہ خاں
جنس اور وجود
انیس ناگی
دشت وجود
حمیدہ شاہین
یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجودوہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھاتری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے
وجود اک وہم ہے اور وہم ہی شاید حقیقت ہےغرض جو حال تھا وہ نفس کے بازار ہی کا تھا
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیمجیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپشوجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
دوستوں کے درمیاںوجہ دوستی ہے تو
تو رہتا ہے خیال و خواب میں گمتو اس کی وجہ فرصت ہے نہیں تو
اک عبث کا وجود ہے جس سےزندگی کو مراد پانی ہے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books