وجود پر اشعار

وجود کے عنوان کے تحت منتخب کئے گئے اشعار انسانی وجود کی اہمیت اور پوری کائنات کے سیاق میں اس کی معنویت کو واضح کرتے ہیں ، ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کی اس اہمیت اور معنویت کے حوالے سے اس کے تقاضے کیا ہیں اور نظام کائنات میں اس کی کارکردگی کی کیا کیا صورتیں ہیں ۔ اس شاعری کا ایک پہلو انسانی وجود کی داخلی دنیا کی سیر بھی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا کیونکہ یہ ایک عمومی سطح پر ہم سب کے وجودی مسائل کا بیانیہ ہے ۔

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

فریاد آزر

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

میں اپنے وجود کی سزا ہوں

اطہر نفیس

مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے

تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

احمد ندیم قاسمی

اگر ہے انسان کا مقدر خود اپنی مٹی کا رزق ہونا

تو پھر زمیں پر یہ آسماں کا وجود کس قہر کے لیے ہے

غلام حسین ساجد

مجھے شک ہے ہونے نہ ہونے پہ خالدؔ

اگر ہوں تو اپنا پتا چاہتا ہوں

خالد مبشر

ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی

میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا

فرحت شہزاد

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

فاضل جمیلی

ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے

کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

عباس تابش

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں

مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں

فرحت احساس

خاک ہوں لیکن سراپا نور ہے میرا وجود

اس زمیں پر چاند سورج کا نمائندہ ہوں میں

انور سدید

ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول

ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

فارغ بخاری

کبھی محبت سے باز رہنے کا دھیان آئے تو سوچتا ہوں

یہ زہر اتنے دنوں سے میرے وجود میں کیسے پل رہا ہے

غلام حسین ساجد

ختم ہونے دے مرے ساتھ ہی اپنا بھی وجود

تو بھی اک نقش خرابے کا ہے مر جا مجھ میں

مصور سبزواری

اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود

انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا

کالی داس گپتا رضا

ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے

چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

غلام حسین ساجد