aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaqaar"
عبدالوقار
born.1992
شاعر
وقار مانوی
born.1939
کشن کمار وقار
وقار سحر
born.1996
شہاب جعفری
1930 - 2000
وقار خان
وقار عظیم
1910 - 1976
مصنف
وقار خلیل
born.1930
وکی ملک
born.2003
وقار بجنوری
born.1906
وقار انبالوی
1896 - 1988
عظیم اللہ خاں وقار
born.1944
وقار صدیقی
born.1932
میاں وقارالاسلام
born.1977
وقار ریاض
کس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقار
غل تھا زہے حسین کی شوکت زہے وقارگویا کھڑے ہیں جنگ کو محبوب کردگار
جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئےوہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا
تمام رات وہ آنکھیں نہ بھولتی تھیں مجھےکہ جن میں میرے لئے عزت اور وقار دکھے
وقار خون شہیدان کربلا کی قسمیزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے
وقار شاعری
वक़ार وَقار
قدر و منزلت، جاہ و مرتبت، شان، ساکھ، عزت، توقیر، عظمت، وقعت
عربی
चक्कर چَکَّر
دائرہ، حلقہ، گھیرا، ہالہ
ہندی
वाक़ा واقا
(مجازاً) بلا ، مصیبت ۔
वाख़र واخَر
(عروض) ایک عربی بحر (غیر مستعمل) جو ہزج مسدس اخرب مقبوض (مفعول مفاعلن فعولن) کی طرح محذوف الآخر ہوتی ہے ۔
فورٹ ولیم کالج
ادبی تحریکیں
فن افسانہ نگاری
افسانہ تنقید
اردو ڈراما: تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ
تنقید
افسانہ نگاری
اردو ڈراما
ڈرامہ تنقید
ہمارے افسانہ نگار
ہماری داستانیں
داستان تنقید
آغا حشر اور ان کے ڈرامے
ڈرامہ
اقبال: شاعر اور فلسفی
تاریخ جدید اردو غزل
سید وقار احمد رضوی
تاریخ
چند قدیم ڈرامے
معروضی تنقید
وقار انیس
میر انیس
مرثیہ
داستان امیر حمزہ
داستان
غزل کے رنگ
مجموعہ
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
ترے گھر میں کیفؔ تیرا کوئی قدرداں نہیں ہےجو وطن سے دور ہوتا تو بڑا وقار ہوتا
عجب وقار تھا سوکھے سنہرے بالوں میںاداسیوں کی چمک زرد لان کی خوشبو
تمام عمر غریبی میں با وقار رہےہمارے عہد میں ایسی کوئی مثال نہیں
جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز و وقارکرتی ہے دریوزۂ تابش کلاہ تاجدار
مٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہے
تم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو
خود اپنے خون میں پہلے نہایا جاتا ہےوقار خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے
خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میںزندگی کا وقار دیکھا ہے
زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکاتو وقارؔ خان ہے جونؔ ایلیا نہیں
ہم نے ٹھکرا دیا جہاں کو جوشؔمرحلہ جب وقار کا آیا
اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقاراے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگار
ہوئی جنگ و حرب کی ابتدا تو بتاؤ بس یہی اک پتاکوئی تم میں ننگ وقار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
عظیم لوگ تھے ٹوٹے تو اک وقار کے ساتھکسی سے کچھ نہ کہا بس اداس رہنے لگے
ہے انہیں تو وقار عجز و نیازوہ تمنا جو بر نہیں آتی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books