aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vatiiraa"
وزیر آغا
1922 - 2010
مصنف
وزیر علی صبا لکھنؤی
1793 - 1855
شاعر
خواجہ محمد وزیر
1795 - 1854
افضل منہاس
1923 - 1997
واجدہ تبسم
1935 - 2010
وحیدہ نسیم
1927 - 1996
فاطمہ وصیہ جائسی
واعظہ رفیق
born.1993
وزیر حسن
والدہ افضال علی
واحدہ خانم
محمد وزیر خاں
حکیم ویسرائے وہمی
وزیر ہند پریس، امرتسر
ناشر
وزیر علی گلبرگوی
ہم تو وہ تھے کہ محبت تھا وطیرہ جن کاپیار سے ملتا تو دشمن کے بھی ہو جاتے تھے
یہ بھی کم ظرف محبت کا وطیرہ ہے میاںجب نئے زخم کی خواہش ہو پرانے دینا
جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشم غزالوہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی
ایک انسان سے بے وجہ ہو انسان کو بیریہ وطیرہ کبھی دیکھا نہ سنا تھا پہلے
تمہی کو چاہا تمہی کو پوجا تمہی کو دل میں سجا کے رکھایہی ہے شیوہ یہی وطیرہ نظر میں تیرا جمال رکھنا
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
شاعری میں پانی اپنی بیشترصورتوں میں زندگی کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے اور اس کی روانی زندگی کی حرکی توانائی کا اشارہ ہے ۔ پانی کا ٹھہرجانا زندگی کی بے حرکتی کی علامت ہے ۔ پانی کااستعارہ اپنے ان معنوی تلازمات کی وجہ سے شاعری اورخاص کرجدید شاعری میں کثرت سے استعمال میں آیا ہے۔ تخلیقی عمل کسی ایک سمت میں نہیں چلتا ۔ یہ بات ہم نے اس لئے کہی ہے کیونکہ پانی اوراس کی روانی بعض اوقات شاعری میں زندگی کی سفا کی کی علامت کے طور پربھی آئ ہے ۔ پانی کی ان شکلوں کو ہمارے اس انتخاب میں شناخت کیجئے ۔
वतीराوَتِیرَہ
عربی
دستور، طور، طریقہ، برتاؤ، چلن، ڈھنگ، روش، شیوہ
वतीराوَطِیرَہ
वतीराوَتِیرا
मतीराمَتِیرا
ہندی
ایک قسم کا چھوٹا تربوز
نظم جدید کی کروٹیں
تنقید
اردو شاعری کا مزاج
شاعری تنقید
انشائیہ کے خد و خال
چوری سے یاری تک
مضامین
معنی اور تناظر
اترن
کہانیاں/ افسانے
واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر
عتیق الرحمن
تنقیدی تھیوری کے سو سال
تخلیقی عمل
تحقیق و تنقید
دوسرا کنارا
قرۃ العین حیدر کی رپورتاژ نگاری
واجدہ بیگم
رپورتاژ
ڈاکٹر وزیر آغا عہد ساز شخصیت
حیدر قریشی
دلّی کا آخری دیدار
سید وزیر حسن دہلوی
تاریخ
تنقید اور وزیر آغا کی تنقید
شاذیہ عمیر
تنقید اور احتساب
تم تو دنیا ہو بدلنا ہے وطیرہ تیراہم کہاں بندے تیرے ڈھب کے تماشا کیا ہے
مجنوں نے حوصلے سے دیوانگی نہیں کیجاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وطیرہ
ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیراملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیرا
تیرا وطیرہ تھامری اک اپنی دنیا تھی
تعلق اور شکایت لازم و ملزوم ہوتے ہیںاگر باہم وطیرہ درگزر ہوتا تو اچھا تھا
وطیرہ ہے جن کا یہی زہد و تقویٰتصور میں شاہ امم دیکھتے ہیں
پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کایہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا
زندگی کا یہی وطیرہ ہےآپ بے کار چیخ اٹھے ہیں
اول اول تو بد گمان رہےپھر وطیرہ بنا لیا صاحب
سنا ہے اب تک یہ کالا دھندہ ترا وطیرہ بنا رہا ہےنہ جانے کیسے چمک رہی ہے یہ تیری صاحب جبین توبہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books