aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba.dh"
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کیسنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیںراستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگامدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیاورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہےتو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا
حد جور و کرم سے بڑھ چلا حسننگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں
حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کیتجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوستاب وہ کرے علاج دوست جس کی سمجھ میں آ سکے
اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہےاب طبیعت بہل چلی ہے
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھےاب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے
بے چینی بڑھ جائے گی اور یاد کسی کی آئے گیتم میری غزلیں گاؤ گے جب عشق تمہیں ہو جائے گا
بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میںدور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے
حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوجھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاںتہمتیں بد نامیاں رسوائیاں
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیازخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوامایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم
ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اوربڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور
ہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹانہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے ناچار گرے
پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے ما عرفنا پرترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرينوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books