aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "cheel"
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئیکیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میںگلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے
یا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دےیا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا
مصلحت کہیے اسے یا کہ سیاست کہیےچیل کوؤں کو بھی شاہین کہا ہے میں نے
ناخن کریں ہیں زخموں کو دو دو ملا کے ایکتھے آٹھ دس سو ہو گئے اب چھل کے چار پانچ
دل غم دیدہ پر خدا کی مارسینہ آہوں سے چھل گیا میرا
خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیںکوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے
چیل نے انڈا چھوڑ دیاسورج آن گرا چھت پر
سر پر اٹھائے دھوپ کو سورج کی طرح چلمنزل کہاں یہ سلسلۂ سنگ میل ہے
تخت میز کرسی چمکتے ہیں کاریگروں کے لہو اور پسینے سے گھر میںنمائش ہی کرنی ہے وحشت کی تو چھیل کر کیوں نہ جسم شجر دل بناؤ
پھول کے زخم بعد میں پوچھیںہاتھ کانٹوں سے چھل گیا پہلے
ان دھندلکوں کی ہر اک چال تو شاطر ہے مگرنقرئی نقش مرے دست ہنر میں ہیں ابھی
اس سے بڑھ کر اور کیا تاثیر غم کی چاہئےدل کی آہوں سے جگر کی چوٹ چھل جاتی تو ہے
اس نے لیا جو آئنے میں بوسہ اپنا آپاللہ رے نازکی لب گلفام چھل گیا
زخم کوئی پھول جیسا کھل گیا تو کیا کہوںہاتھ تتلی کا اگر پھر چھل گیا تو کیا کہوں
سب یہ سمجھ رہے تھے کہ نروان مل گیاچکرا رہی ہے چیل مگر ماس کی طرف
کوئل کوا چیل کبوتر طوطا مینا چڑیا مورشام ڈھلے سب چپ چپ بیٹھے اک دوجے کو تکتے ہیں
جب نہیں ملتی نئے زخم کی سوغات مجھےچھیل دیتا ہوں پرانا کوئی گھاؤ صاحب
ہیرے کو کون پوچھنے والا ہے اے عزیزہیرے کو چھیل چھال کے چمکا کے کانچ کر
چیل کوؤں کو تاکتے رہئےچاند تاروں سے تھک گئی ہے نظر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books