aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ebras"
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجتغم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیںہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
اک عبث کا وجود ہے جس سےزندگی کو مراد پانی ہے
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیےآنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیںداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتایہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں دیتا
زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگامیں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا
نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبثہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہےاب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطرخاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلاننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیںہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھولعبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہےشہر کا شہر مجھے رخت سفر لگتا ہے
کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میںپھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں
جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھےوہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے
لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہےایک کھڑکی تری آمد کی دعا کرتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books