aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mutamassil"
اس کو ہر شب ہے زوال اس کو نہیں ہے کچھ نقصبدر کو چہرے سے اس کے متمثل نہ کرو
جب سے جانا ہے غم زیست سے حاصل کیا ہےمیں یہی سوچ رہا ہوں متبادل کیا ہے
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشتمکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری
عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبحدن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی
قسمت کے پھوڑنے کو کوئی اور در نہ تھاقاصد مکان غیر کے کیوں متصل گیا
دیکھ انشاؔ نے کیا کیا ہے قہرمتحمل یہ گال بوسے کا
وہ جو بکھرے بکھرے سے لوگ تھے مرے روگ تھےوہ جو متصل در و بام تھے مجھے کھا گئے
دلوں میں آج تری یاد مدتوں کے بعدبہ چہرۂ متبسم بہ چشم تر آئی
شاید اس سادہ نے رکھا ہے خطکہ ہمیں متصل لکھا ہے خط
میں ہوں خود سے متقابل متبادل متضادروح ٹھہرے مرا عنواں کبھی قالب ٹھہرے
ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کرانہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصلنہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
متصل طفلی سے آغاز شبابخواب کے آغوش میں بیداریاں
خوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میںگو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم
درد فراق یار سے دونوں ہیں بے قرارقابو میں دل نہیں متحمل جگر نہیں
دیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصلدیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا
یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہےسو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے
تم کو شاید ہی نظر آئے مماثل اس کااس طرح چاند میں ڈھونڈو نہ شباہت اس کی
متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دلایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books