aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sar-e-gul"
ہجر سر ویرانۂ جاں بھی مہر بلبوصل گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے
منظر بام سر دید نہیں کھلتا ہےکچھ ہے نا دیدہ کا اسرار ترے کوچے میں
خمیازہ ہے اس عادت اسراف کا اور بسجو بے سر و سامانی ہے سامان سے آگے
قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئے
پھر فصل گل و لالہ سے مہکے گا چمن یہہم نوک صبا سے تجھے تحریر کریں گے
جسم ہوں اور نفس ٹھہرا ہے ضامن میراساعت عمر کی نگرانی میں بیٹھا ہوا ہوں
ہلکان میں نہیں تری خاطر سر ہجومسب مر رہے ہیں حسرت یک دو نگاہ میں
بنایا ہے جنہیں میں نے محبت کے گلابوں سےتر و تازہ وہ گلدستے تمہارے نام کرتی ہوں
مکر و فریب لے کر ہر شخص دیکھتا ہےدل سب سے بھر گیا ہے تنہائی چاہتا ہے
راز ہستی میں زمیں ساری تصور نکلیآسماں اپنے تخیل کا صحیفہ دیکھا
تم سے اچھے تو ہیں پرندے ہیجو سر شام لوٹ آتے ہیں
ہم سے وہ دور جا چکے ہیں گلؔپوچھ کر کوئی ان کا حال آئے
میں با وفا ہی رہا رہ کے بے وفاؤں میںگل بہار کی صورت کھلا خزاؤں میں
حصار نکہت گل میں سر بہار تھا میںوہ دن بھی کیا تھے کہ اک اپسرا کا یار تھا میں
روتی ہے مرے خوف سے شبنم بہ سر گلاصلاح کو بلبل ہے غزل خواں مرے آگے
پہنچ چکے تھے سر شاخ گل اسیر ہوئےلٹا ہے سامنے منزل کے کارواں اپنا
شہر گل کی رہنے والی آگہیمرے زخموں کی زباں سمجھے گی کیا
ان کو جانے کس نے بھیجا تھا پیام سپر گلباغ میں اڑ کر پرندے دور سے آئے بہت
جن پہ بارش گل ہے ان کا حال کیا ہوگازخم کھانے والے بھی باغ باغ ہیں یارو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books